اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی صوبائی حکومتوں بشمول آزاد وجموں کشمیر، گلگت بلتستان ،وفاقی وزارتوں اور اداروں کے مربوط تعاون اور موثر حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں عالمی وباء کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے قومی کاوشیں کامیابی سے ہمکنار ہیں ، کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی صلاحیت 472 سے بڑھا کریومیہ 60 ہزار ٹیسٹ ، ٹیسٹنگ …
صوبائی حکومتوں ، وفاقی وزارتوں اور اداروں کے مربوط تعاون اور موثر حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے قومی کاوشیں کامیابی سے ہمکنار ہیں ، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 جولائی (اے پی پی) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی صوبائی حکومتوں بشمول آزاد وجموں کشمیر، گلگت بلتستان ،وفاقی وزارتوں اور اداروں کے مربوط تعاون اور موثر حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں عالمی وباء کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے قومی کاوشیں کامیابی سے ہمکنار ہیں ، کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی صلاحیت 472 سے بڑھا کریومیہ 60 ہزار ٹیسٹ ، ٹیسٹنگ لیبارٹریاں 2 سے بڑھا کر 132 کرنے ، مقامی سطح پر وینٹیلیٹرز کی تیاری میں خودانحصاری کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کو 1227 آکسیجنیڈڈ بیڈ کی فراہمی، کوویڈ 19کے عدم پھیلائو کے لئے 31 ایس او پیز کی تیاری ،60 ہزار طبی عملہ کو تربیت دینے ،65 ممالک میں محصور ایک لاکھ سے زائدپاکستانیوں کو پی آئی اے اور غیر ملکی 478 پروازوں سے وطن واپس لانے سمیت دیگر اقدامات اٹھائے گئے ۔این سی او سی کے مطابق کورونا کے خلاف پاکستان کی کوششوں ، پاکستان کے بروقت اور درست اقدامات کی وجہ سے نہ صرف بہترین طبی اقدامات کئے بلکہ ساتھ ساتھ معیشت کی بحالی، روز گار،نوجوانوں اور انڈسٹری کے لئے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت منصوبہ بندی بھی کی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے تمام ریسورسز کو چینلائز کیا ہے اور لاک ڈاؤن کے باوجود اْن کی دستیابی کو یقینی بنایا ٹیسٹنگ کے شعبے میں ٹیسٹنگ صلاحیت 472 سے بڑھ کر یومیہ60 ساٹھ ہزارسے زائد کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کے لئے قائم دو لیبارٹریوں کی تعداد کو بڑھا کر 132کی گئی ۔وینٹیلیٹرز کی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے پاکستان اب ان چند ممالک میں شامل ہے جو اپنے ہی وینٹیلیٹر تیار کررہا ہے ،اس وقت ملک میں کورونا کے لئے 1525 وینٹیلیٹرز مختص ہیں جبکہ 1227آکسیجنیڈڈ بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے جن میں آزاد جموں و کشمیر میں 80 ،بلوچستان کے 100،گلگت بلستان کے100،خیبرپختونخوا کے 320 ، پنجاب کے 330،سندھ کے 70 اوراسلام آباد کے 227 آکسیجنیڈڈ بیڈز شامل ہیں ۔حفاظتی سامان اور ٹیٹسنگ کٹس کے لئے مصنوعی ذہانت سے سینے کے ایکسرے، نسٹ یونیورسٹی میں ٹسٹنگ کٹس، ڈیفنس سائنس و ٹیکنالوجی آرگنائزیشن، سٹریٹیجک پلان ڈویڑن کے تحت انفرادی حفاظتی سامان کی تیار ی کا آغازہوگیا ہے ۔ وزارت صحت نے اب تک کوویڈـ19 کے عدو پھیلائو کے لئے مختلف شعبوں کے لیے 31 ایس او پیز جاری کیے ۔ ڈاکٹرز ٹریننگ کے لئے ”وی کیئر ” پروگرام کے تحت ڈاکٹرز، نرسز،پیرامیڈکس کو یہ احساس دلایا گیا کہ فرنٹ لائن سولجر کے طور پر ان کی حفاظت کے لئے انہیں ہر ممکن سہولیات مہیا کی جائیں گی۔60 ہزار فرنٹ لائن ہیلتھ وکرز کوٹریننگ دی گئی تاکہ وہ اپنا کردار بخوبی ادا کر سکیں۔احساس پروگرام کی مد میں حکومت نے لاک ڈاون کے دوران محنت کشوں سمیت 1 کروڑ 25 لاکھ سے زائد لوگوں کو بھوک اور تنگدستی سے تحفظ کیلئے احساس ہنگامی کیش پروگرام شروع کیاجس کے تحت اب تک 151.9 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔بجلی کے بلوں پر 1200ارب روپے ریلیف دیا گیا۔ ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ کے لئے پہلی دفعہ 1500سے زائد ھسپتال پہلی مرتبہ ریسورس مینجمنٹ سسٹم منسلک۔ پاکستان پاک نگہبان ایپ کے تحت ھسپتال کے متعلق درست معلومات کا حصول ۔رورل سپورٹ پروگرام کے تحت کرونا سے لڑائی میں 66 اضلاع میں معاشرے کو متحرک کرنے کے ساتھ ہسپتالوں کی مدد، ڈیٹا کولیکشن اوراہم مقامات کی ڈس انفیکشن اروایس اوپیز کی نگرانی بھی کی گئی۔مزدور احساس پروگرام کے تحت 60 لاکھ لوگوں کو 12 ہزار روپے فی کس دیے گئے۔چھوٹا صنعت کار چھوٹا کاروبار کے تحت صارفین کی تین ماہ کی بلوں کی واپڈا کو پیشگی ادائیگی کی گئی۔ آکسیجن سلنڈر ، ٹینکس کی درآمد پر 3 ماہ تک ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی کا استثنی دیا گیا ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے عالمی اقتصادی جائزے کے مطابق 30 ممالک کے گروپ میں سے پاکستان واحد ملک جو ممکنہ ڈائون ٹرن کو منفی 0.4 سے 1.1 پر واپس لے آیا ہے، جبکہ پاکستان کی برآمدات جولائی 2019 سے مئی 2020 کے دوران خطے کے دیگر ممالک سے بہت بہتر رہیں۔طبی ماہرین، یارانِ وطن اور وہ پاکستانی جو وبا سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ان ماہرین کی مہارت سے فائدہ بھی اْٹھایا گیا۔








