صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کی زیرِ صدارت اجلاس،آلو اور کینو کی برآمدات سے متعلق امور پر تفصیلی غور

لاہور۔12جنوری (اے پی پی):وزیرِ زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی کی زیرِ صدارت ایگریکلچر کمیشن کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبرانِ صوبائی اسمبلی، کسان تنظیموں کے نمائندگان، ایکسپورٹرز، آلو اور کینو کے کاشتکاروں سمیت دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں خصوصی طور پر آلو اور کینو کی برآمدات سے متعلق امور، درپیش مشکلات اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر …

لاہور۔12جنوری (اے پی پی):وزیرِ زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی کی زیرِ صدارت ایگریکلچر کمیشن کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبرانِ صوبائی اسمبلی، کسان تنظیموں کے نمائندگان، ایکسپورٹرز، آلو اور کینو کے کاشتکاروں سمیت دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں خصوصی طور پر آلو اور کینو کی برآمدات سے متعلق امور، درپیش مشکلات اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ حکومت پنجاب آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وزیرِ زراعت نے مزید کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر آلو اور کینو کی ایکسپورٹ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت سے براستہ ایران آلو اور کینو کی برآمد کے لیے مال برداری کے اخراجات میں کمی لانے کی استدعا بھی کی گئی ہے تاکہ کسانوں اور ایکسپورٹرز کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوںنے کہا کہ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آلو اور کینو کی کل ملکی پیداوار کا تقریبا 95 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے، لہذا ان فصلوں کی برآمدات کا فروغ نہ صرف صوبائی بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی محنت کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب، آلو اور کینو کے کاشتکاروں کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور برآمدات کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے بھرپور تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں شریک شرکا کی جانب سے پیش کی جانے والی قابلِ عمل تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان تجاویز کو وفاقی حکومت کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ برآمدات کے عمل کو مزید مثر بنایا جا سکے۔

آخر میں وزیرِ زراعت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آلو اور کینو کی برآمدات کے فروغ کے ذریعے کسانوں کی آمدن میں اضافہ اور ملکی زرمبادلہ بڑھانے کے لیے حکومت تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔