صوبے اپنی الگ فوج یا پولیس نہیں بنا سکتے، کے پی کا متنازعہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،طلال چوہدری

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، آئین و قانون کے تحت صوبے اپنی الگ فوج یا پولیس نہیں بنا سکتے اور نہ ہی پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے بنیادی قواعد و ضوابط میں کوئی صوبہ یکطرفہ تبدیلی کر سکتا ہے۔

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، آئین و قانون کے تحت صوبے اپنی الگ فوج یا پولیس نہیں بنا سکتے اور نہ ہی پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے بنیادی قواعد و ضوابط میں کوئی صوبہ یکطرفہ تبدیلی کر سکتا ہے۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مجوزہ ایکٹ ابھی صرف صوبائی کابینہ سے منظور ہوا ہے لہٰذا خیبرپختونخوا حکومت کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ہوش کے ناخن لے کیونکہ وفاق کے پاس اس کے تدارک کے لئے تمام آئینی و قانونی آپشنز موجود ہیں اور اس متنازعہ ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نہ صرف انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) کے اختیارات سلب کئے ہیں بلکہ فورس کا پورا کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر ہی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ مجوزہ مسودے میں واضح طور پر سیاسی مداخلت اور بدنیتی نظر آ رہی ہے جس کے ذریعے وزیراعلیٰ نے ڈی ایس پی سے لے کر آئی جی پی تک تمام تقرر و تبادلے کے اختیارات اپنی جیب اور سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کمانڈ سٹرکچر ہی ختم ہو گیا تو کیا پولیس فورس اب اپنے پیشہ ور افسران کے بجائے سیاسی نمائندوں کی طرف دیکھے گی اور ایسی صورت میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر جنگ کیسے لڑی جائے گی؟

طلال چوہدری نے نشاندہی کی کہ پولیس افسران کی تعیناتیوں سے متعلق عمومی مشاورت اور ہدایات کے اختیارات پہلے سے ہی تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے پاس موجود ہیں لیکن بنیادی کمانڈ کو منسوخ کرنا غیر آئینی ہے۔ کے پی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ 15 سے 20 سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) آج بھی کرائے کی عمارتوں میں قائم ہے اور فورس کو ضروری وسائل سے محروم رکھا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق پر الزامات کے جواب میں طلال چوہدری نے کہا کہ صوبائی قیادت دعویٰ کرتی ہے کہ ان کا وزیر اٹھایا گیا، اگر صوبائی حکومت اس قدر بے بس اور لاچار ہے تو پھر اقتدار اور کرسیوں سے کیوں چمٹی ہوئی ہے؟دارالحکومت میں امن و امان اور سڑکوں کی بندش سے متعلق زیرِ گردش افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اسلام آباد آنے والے تمام 125 راستے مکمل طور پر کھلے اور ہر قسم کی آمد و رفت کے لئے بحال ہیں۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026ء کے مجوزہ مسودے کی منظوری دی ہے جس کے تحت صوبائی پولیس کے سربراہ کی تعیناتی سمیت پولیس کے پالیسی، انتظامی، آپریشنل اور مالیاتی معاملات میں صوبائی حکومت کے اختیارات کو وسیع تر کرنے کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت صوبائی آئی جی کی تقرری کے لیے وفاقی حکومت تین افسران کا پینل صوبائی حکومت کو ارسال کرے گی، جس میں سے صوبائی حکومت کو کسی ایک افسر کا انتخاب کرنے یا پورے کے پورے پینل کو یکسر مسترد کرنے کا حتمی اختیار تجویز کیا گیا ہے۔