طالبان رجیم کا بگرام ائیر بیس پر فوجی سازوسامان کی تیاری سے متعلقہ پروپیگنڈا امریکی جریدے نے بے نقاب کردیا

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):طالبان رجیم کا بگرام ائیر بیس پر فوجی سازوسامان کی تیاری سے متعلقہ پروپیگنڈا امریکی جریدے نے بے نقاب کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے قرار دیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور شواہد کے ذریعے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان رجیم کی بگرام ائیر بیس پر جنگی طیاروں اور بکتربند گاڑیوں کی تیاری میں حقیقت نہیں، طالبان رجیم نے ناکارہ طیاروں اور بکتر بند …

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):طالبان رجیم کا بگرام ائیر بیس پر فوجی سازوسامان کی تیاری سے متعلقہ پروپیگنڈا امریکی جریدے نے بے نقاب کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے قرار دیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور شواہد کے ذریعے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان رجیم کی بگرام ائیر بیس پر جنگی طیاروں اور بکتربند گاڑیوں کی تیاری میں حقیقت نہیں، طالبان رجیم نے ناکارہ طیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کو رنگ روغن کرکے رن وے پر کھڑا کر رکھا ہے، سوشل میڈیا پر طالبان نے بطور گمراہ کن پروپیگنڈا جنگی مشقیں، طیاروں کی مرمت اور عسکری پریڈز دکھائیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ سے واضح ہے کہ امریکا میں کچھ تحقیقاتی و مفاداتی حلقے بگرام ایئربیس کی سرگرمیوں پر گہری نظررکھے ہوئے ہیں۔ ان حلقوں کو افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ اور بگرام ائیر بیس سے گہری دلچسپی ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بگرام ائیر بیس کی واپسی کامطالبہ بھی کرچکے ہیں۔ امریکا کی خصوصی نگران جنرل برائے افغان تعمیر نو نے بھی یہ کہا تھا کہ امریکی انخلاء کے دوران افغانستان میں 7.1 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیار اور فوجی سازوسامان چھوڑا گیا۔

دنیا بھر میں عموماً اور امریکا میں خاص طور پر افغان طالبان کی ابھرتی اصلیت اور وہاں پنپتے دہشتگرد گروہ تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ اس تشویش کو مزید بڑھا دیتی ہے کہ حقیقت میں طالبان اپنی سیکورٹی ضروریات کے لیے غیر متعلقہ گروپوں پر منحصر ہیں۔ ان حقائق سے واضح ہے کہ طالبان رجیم اپنے ساتھ تعاون کرنے والے دہشتگردوں کی پشت پناہی اور دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طورجاری رکھے گی ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پاکستان کے موقف کو تقویت دیتی ہے کہ طالبان رجیم کے دہشتگردانہ عزائم نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کیلئےخطرہ ہیں۔

مزید خبریں