اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے توقع ظاہر کی ہے کہ طالبان کے ساتھ مشکلات کے باوجود مستقبل قریب میں تنازعہ کے حل کا راسہ نکل سکتا ہے، اس راستے کو ہموار رکنے کیلئے طالبان آمادہ دکھائی دیتے ہیں، طالبان دوحہ معاہدے پر من و عن عمل کے پابند ہیں، طالبان وفد کے ساتھ مثبت، تعمیری اور دوستانہ ماحول میں مذاکرات ہوئے۔ …
طالبان کے ساتھ مشکلات کے باوجود مستقبل قریب میں تنازعہ کے حل کا راسہ نکل سکتا ہے، اس راستے کو ہموار رکنے کیلئے طالبان آمادہ دکھائی دیتے ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے توقع ظاہر کی ہے کہ طالبان کے ساتھ مشکلات کے باوجود مستقبل قریب میں تنازعہ کے حل کا راسہ نکل سکتا ہے، اس راستے کو ہموار رکنے کیلئے طالبان آمادہ دکھائی دیتے ہیں، طالبان دوحہ معاہدے پر من و عن عمل کے پابند ہیں، طالبان وفد کے ساتھ مثبت، تعمیری اور دوستانہ ماحول میں مذاکرات ہوئے۔ منگل کو وزارت خارجہ میں ملا برادر کی سربراہی میں افغان طالبان وفد سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات میں 2019ءسے لے کر اب تک حالات کا احاطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کا کردار ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ افغان مہاجرین کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ آج بھی شکر گزار ہیں کہ پاکستان نے ان کےلئے اپنے دلوں اور گھروں کے دروازے کھول دیئے۔ پاکستان شروع دن سے ہی افغان تنازعہ کے پرامن حل پر زور دیتا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ یہی بات کی ہے کہ افغان تنازعہ طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا، تقریباً 22 سال بعد دنیا اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ افغان تنازعہ کا واحد راستہ پر امن مذاکرات ہی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں پرامید ہوں کہ طالبان کے ساتھ مستقبل قریب میں مشکلات کے باوجود تنازعہ کے حل کا راستہ نکل سکتا ہے اور اس راستے کو ہموار کرنے کیلئے طالبان آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوحہ معاہدہ کے پابند ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس پر من و عن عمل ہونا ضروری ہے، آج ہمارے جو مذاکرات ہوئے انشاءاﷲ اس سے راستہ نکلے گا۔ بات چیت حوصلہ اور پرامید نشت تھی، ہماری دعا ہے کہ ہم اپنی منزل حاصل کر سکیں اور ہماری منزل پر امن خوشحال اور مستحکم افغانستان ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض قوتین گاہے بگاہے افغانوں کے ذہنوں کو متاثر کرتے رہتے ہیں لیکن ہم افغان عوام کی بہتری چاہتے ہیں، ہم افغانستان کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ امن و استحکام سے اس خطہ میں ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور اپنے بچوں کیلئے بہتر مستقبل بنا سکیں گے۔









