طلبہ کو مشاہدہ ، تجربات اور دریافت کے مواقع فراہم نہ کرنے تک سائنس کی تعلیم اپنی بھرپور صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی ، وفاقی وزیرتعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا آئی ایم سی بی میں جدید ترین سائنس لیبارٹریوں کے افتتاح کے موقع پرخطاب

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ طلبہ کو مشاہدہ ، ، تجربات اور دریافت کے مواقع فراہم نہ کرنے تک سائنس کی تعلیم اپنی بھرپور صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی ، طلبہ میں جدت، تخلیقی صلاحیت، باہمی تعاون، تنقیدی سوچ اور سائنسی فہم کو فروغ دینے میں جدید سائنس لیبارٹریوں کاکرداراہمیت کاحامل ہے

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ طلبہ کو مشاہدہ ، ، تجربات اور دریافت کے مواقع فراہم نہ کرنے تک سائنس کی تعلیم اپنی بھرپور صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی ، طلبہ میں جدت، تخلیقی صلاحیت، باہمی تعاون، تنقیدی سوچ اور سائنسی فہم کو فروغ دینے میں جدید سائنس لیبارٹریوں کاکرداراہمیت کاحامل ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز (آئی ایم سی بی)، ایف ایٹ فور اسلام آباد میں نو تزئین و آرائش شدہ جدید ترین سائنس لیبارٹریوں کے افتتاح کے موقع پرکہی ۔ یہ اقدام سرکاری تعلیمی اداروں میں عملی اور سائنسی تعلیم کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں میں اہم سنگ میل ہے، منصوبہ سرکاری سکولوں کیلئے وزیراعظم کے تعلیمی اصلاحات پروگرام کے تحت مکمل کیا گیا ہے جس سے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی ہورہی ہے۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وفاقی نظامت تعلیم اور اس اقدام میں شامل تمام متعلقہ اداروں اور افراد کی کاوشیں قابل تعریف ہے۔ انہوں نے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور اکیسویں صدی کے سائنسی، تکنیکی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طلبہ کو جدید تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ۔ تقریب میں وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے سیکرٹری ندیم محبوب، ڈائریکٹر جنرل وفاقی نظامت تعلیم (ایف ڈی ای) جاوید اقبال مرزا، وزارت اور ایف ڈی ای کے سینئر افسران، تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، والدین اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ ڈی جی ایف ڈی ای جاوید اقبال مرزا نے سائنس لیبارٹریوں کی تزئین و آرائش کے منصوبے کے مقاصد اور پیش رفت پر شرکا کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے جس کے تحت ایف ڈی ای کے 22 اداروں میں 30 جدید ترین سائنس لیبارٹریوں کی تزئین و آرائش کی گئی ہے، ان میں سے بیشتر سائنس لیبارٹریاں کئی دہائیاں قبل قائم کی گئی تھیں اور وقت گزرنے کے ساتھ فرسودہ ہو چکی تھیں تاہم منصوبے کے تحت انہیں جامع طور پر اپ گریڈ کرکے جدید سائنسی آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے تاکہ موجودہ دور کی تدریسی اور تعلیمی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ تزئین و آرائش شدہ لیبارٹریوں میں 15 مشترکہ سائنس لیبارٹریاں، 6 فزکس لیبارٹریاں، 5 کیمسٹری لیبارٹریاں اور 4 بائیولوجی لیبارٹریاں شامل ہیں۔ یہ منصوبہ ایف ڈی ای کے مختلف اداروں میں اس عزم کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے کہ معیاری سائنس تعلیم تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے،اس سلسلے میں شہری اور دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں اور لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو بھی منصوبے کے ثمرات پہنچائے گئے ہیں۔ ڈی جی ایف ڈی ای نے بتایا کہ لیبارٹریوں کو جدید سائنسی اور تدریسی تقاضوں کے مطابق ازسرنو ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں طلبہ کو مرکزیت دینے والے تدریسی طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ باہمی تعاون اور عملی تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرمی پر مبنی ورک سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جہاں پانی، گیس اور بجلی کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ لیبارٹریوں کو نصاب سے ہم آہنگ جدید سائنسی آلات اور بہتر حفاظتی سہولیات سے بھی آراستہ کیا گیا ہے جس سے طلبہ کے لیے تجربات، تحقیق، جستجو اور سائنسی دریافت کا سازگار ماحول پیدا ہوگا۔ جاوید اقبال مرزا نے مزید بتایا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی ہو چکا ہے اور ایف ڈی ای کے اداروں میں مزید 60 سائنس لیبارٹریوں کی تزئین و آرائش کے لیے آر ایف پی جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں دیہی اور طالبات کے اداروں کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے جس سے ایف ڈی ای کے اس عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ تعلیمی سہولیات میں موجود تفاوت کو کم کیا جائے اور جنس یا جغرافیائی محل وقوع سے قطع نظر تمام طلبہ کو معیاری سائنس تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے سیکرٹری ندیم محبوب نے سائنس کی تعلیم کو مضبوط بنانے اور طلبہ کو عملی تعلیم کے بامعنی مواقع فراہم کرنے کے لیے جدید لیبارٹریوں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر سائنس لیبارٹریوں کی تزئین و آرائش کے منصوبے میں گہری دلچسپی لی اور اس کے ہر مرحلے کی قریبی نگرانی کی تاکہ منصوبہ بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہو۔ انہوں نے وزارت، ایف ڈی ای، پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو)، کالج کے تدریسی عملے اور انتظامی ٹیموں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا جن کی مربوط کوششوں سے منصوبے کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا۔

مزید خبریں