اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے وضاحت کی ہے کہ ظاہر شدہ اثاثے کسی دوسرے قانون کے تحت قانونی کارروائی یا جرمانے کے لئے بطور شہادت استعمال نہیں ہوسکتے۔ چیئرمین ایف بی آر سید محمد شبر زیدی نے بدھ کویہاں جاری ہونے والے بیان میں وضاحت کی ہے کہ ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینینس2019 کے سیکشن 12کے تحت اثاثے ظاہر کرنے والے شہری …
ظاہر شدہ اثاثے کسی دوسرے قانون کے تحت قانونی کارروائی یا جرمانے کےلئے بطور شہادت استعمال نہیں ہوسکتے، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا وضاحتی بیان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے وضاحت کی ہے کہ ظاہر شدہ اثاثے کسی دوسرے قانون کے تحت قانونی کارروائی یا جرمانے کے لئے بطور شہادت استعمال نہیں ہوسکتے۔ چیئرمین ایف بی آر سید محمد شبر زیدی نے بدھ کویہاں جاری ہونے والے بیان میں وضاحت کی ہے کہ ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینینس2019 کے سیکشن 12کے تحت اثاثے ظاہر کرنے والے شہری کے خلاف کسی بھی دوسرے قانون کے تحت قانونی کارروائی یا جرمانے کے لئے ظاہرشدہ اثاثے بطور شہادت استعمال نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ سیکشن 12 میں درج ہے کہ فی الوقت نافذالعمل کسی بھی دیگر قانون میں شامل کسی امر کے باوصف،جو اس آرڈینینس کے تحت کسی بھی عدالتی کارروائیوں کی اغراض کے لئے جو جرمانہ عائد کرنے یا سخت کارروائی کی کسی بھی قانون کے تحت کارروائیوں کی اغراض سے متعلق ہو، اعلان کنندہ کے خلاف بطور شہادت قابل قبول نہ ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ سیکشن 12 کی رو سے ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینینس2019 کے تحت ظاہر کئے گئے مندرجات کسی بھی قانون میں بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکتے۔








