اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) کامسیٹس کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے پاکستان میں زچہ وبچہ کی صحت کو عصر حاضر کے جدید تقاضوں پر استوار کرنے کے لیے ٹیلی ہیلتھ سسٹم کے تحت آن لائن تربیت کے دوسرے مرحلے میںپنجاب، سندھ، بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے تولیدی صحت کے فرنٹ لائن عملے کو جدید تربیت فراہم کی گئی۔ جس میں تولید و زچگی کے …
کامسیٹس کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے تولیدی صحت کے فرنٹ لائن عملے کو جدید تربیت فراہم کی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) کامسیٹس کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے پاکستان میں زچہ وبچہ کی صحت کو عصر حاضر کے جدید تقاضوں پر استوار کرنے کے لیے ٹیلی ہیلتھ سسٹم کے تحت آن لائن تربیت کے دوسرے مرحلے میںپنجاب، سندھ، بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے تولیدی صحت کے فرنٹ لائن عملے کو جدید تربیت فراہم کی گئی۔ جس میں تولید و زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے تدارک، زچہ وبچہ کی ہلاکتوںکو کم کرنے اور ہنر مند برتھ اٹینڈنٹ (ایس بی اے) کو ایمرجنسی مسائل سے بروقت نبرد آزماءہونے کے طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔اس منعقدہ تربیت کا ہر ایک مرحلہ 5 دن کے دو گروپوں پر مشتمل تھا، گذشتہ روز ختم ہونے والے اس مرحلے میں 26 ایس بی اے شریک ہوئیں جن میں لیڈی ہیلتھ وزٹرز (ایل ایچ وی) اور کمیونٹی مڈ وائفز (سی ایم ڈبلیوز) شامل تھیں۔ کامسیٹس کے مطابق ٹیلی ہیلتھ سسٹم کی آن لائن تربیت میں یہ فرنٹ لائن عملہ زچہ کی صحت اور نومولو کی نگہداشت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ہنر مند برتھ اٹینڈنٹ (ایس بی اے) فرنٹ لائن کارکن شمار کیے جاتے ہیں کیوں کہ انتہائی حساس نوعیت کی طبی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے ہر مریض کو ایک دوسرے سے الگ نوعیت سے دیکھنا ہوتا ہے، یہ خدمت جنسی اور تولیدی صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ جنس، تولید اور زچگی سے متعلق صحت (ایس آر ایم ایچ) کے میدان میں صلاحیتوں کی تعمیر اور مہارتوں کی جامع نشوونما کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کامسیٹس (کمیشن برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی برائے پائیدار ترقی برائے جنوب) نے ڈبلیو ایچ او پاکستان کے تعاون سے تربیت کے اس دوسرے مرحلے کا انعقاد کیا تھا۔ جس میں ہنر مند برتھ اٹینڈنٹ (ایس بی ایچ) کے لیے تیار کردہ ایس آر ایچ پرورچوئل تربیت شامل تھی۔ یاد رہے تربیت کے پہلے مرحلے میں پاکستان بھر کے مختلف ٹیلی ہیلتھ کلینکس کے ڈاکٹرز کو توقع سے زیادہ فائدہ ہوا تھا۔ دوسرے مرحلے میں شامل سٹاف کا تعلق پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ٹیلی ہیلتھ کلینکس تھا۔ چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے سٹاف نے اس تربیت میں ایس آر ایچ کے میدان میں نئے تصورات اور تراکیب کو سیکھا اور ساتھ ہی پرانی تراکیب میں آنے والی تبدیلیوں اور جدت سے بھی آگاہی حاصل کی۔ جن پیشہ ور ماہرین نے اس مرحلے میں تربیت دی، وہ تمام عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور وزارت قومی صحت( حکومت پاکستان)کے ساتھ ساتھ کامسیٹس طبی خدمات فراہمی کے عمل میں بھی شراکت دار تھے۔ علاوہ ازیں ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد، ڈاﺅ میڈیکل کالج اور کراچی کے سول اسپتال اور کامسیٹس ہیلتھ اسلام آباد کے ماہرین اور مشیران نے بھی تربیت کے مختلف سیشنز میں شرکت کی۔ بصری اور سمعی طریقہ کار کے تحت ویڈیو کلپس کی مدد سے انٹر ایکٹو لیکچرز کے شرکاءنے اپنے اپنے موضوعات کے تحت لیکچردیئے، جن میں بصری ڈیٹا اکٹھا کرنا، ویڈیو لنکس پربات چیت کے موثر طریقے، حمل کے دوران کورونا وائرس سے بچاﺅ پر خصوصی دھیان اور قبل از وقت پیدائش کے عمل کی دیکھ بھال بھی شامل تھی۔ جن دیگر موضوعات کا احاطہ کیا گیا، ا±ن میں حاملہ کی ذہنی صحت، زچگی کے بعد کی صورت حال میں معمول کی نگہداشت، نومولود کی صحت اور زچہ کا اپنی صحت کا خود خیال رکھنا بھی شامل تھا۔ اختتامی تقریب میں عالمی ادارہ صحت کے علاقائی دفتر (مشرقی بحیرہ روم) سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نرمینی ہیما چندرا، مصر سے تشریف لائیں۔ انہوں نے ای ایم آر او، ریجن میں اپنی پہلی تربیت کا تذکرہ کرتے ہوئے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اور تربیت یافتہ سٹاف کو کامیابی سے کورس مکمل کرنے پرمبارک باد پیش کی۔اس موقع پر ایم این ایچ ایس آر اینڈ سی کی ڈپٹی ڈائریکٹر(پروگرامز) ڈاکٹر عطیہ آبڑو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تربیت نہایت ضروری ہوچکی ہے کیوں کہ اسی سے مہارت میں بتدریج اضافہ ہوتا ہے اوریوں پورے پاکستان میں متعلقہ افراد کو اس سے فائدہ پہنچتاہے۔ ڈبلیو ایچ اوکی ٹیکنیکل آفیسر ایلن تھام نے اپنےاختتامی کلمات میں کہا کہ کامسیٹس نے احسن طریقے سے اس تربیتی کورس کو مکمل کیا ہے۔انہوں نے اس طرح کی سرگرمیوں کے انعقاد کی تعریف کرتے ہوئے خاص طور پر کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید زیدی کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر حصہ لینے والی تنظیموں سمیت صحت کہانی اور ہیومن ڈویلپمنٹ فاو?نڈیشن کے نمائندوں نے بھی اپنی آراءپیش کیں اور تربیت میں شامل شرکاءکی علمی اور فنی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے میں اس کورس کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تربیتی کورس سے(ایس اار ایچ) جنسی اور تولیدی صحت سے متعلق پائی جانے والی موجودہ دور کی غلط فہمیوں اور ممنوعات کو دور کرنے میں بھی مدد ملے گی کیوں کہ( ایس بی اے) ہنر مند برتھ اٹینڈنٹ کی دیکھ بھال ہی وہ پہلا مقام ہوتا ہے جہاں سے اس طرح کے معاملات کو باضابطہ طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ (آئی ایس پی) انٹر نیٹ خدمات کی فراہمی اور حصول کے مسابقتی فائدہ پر روشنی ڈالتے ہوئے نمائندگان نے کہا کہ کامسیٹس پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ شعبے کاسرخیل ہے،جس نے2001 میں اپنے قیام کے بعد ٹیلی ہیلتھ شعبے کے ذریعے امراض جلد، امراض زچہ وبچہ، الٹرا ساﺅنڈ اور آﺅٹ پشنینٹ کیئر کے علاوہ دیگر طبی سہولیات کے تحت پاکستان کے17 دیہی علاقوں میں 70 ہزار مریضوں کو فائدہ پہنچایاہے۔ اسی طرح کامسیٹس نے ٹیلی میڈیسن کی فراہمی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی اہمیت پر توجہ دی ہوئی ہے تاکہ پاکستان میں طبی علمیت اور مہارت کو بہتر بنایا جاسکے۔








