عالمی امن کے فروغ کیلئے سفارتکاری، مکالمے، انصاف، تعلیم، ترقی اور انسانی وقارکے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، سید یوسف رضا گیلانی

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی امن کے فروغ کے لئے سفارتکاری، مکالمے، انصاف، تعلیم، ترقی اور انسانی وقارکے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی امن کے فروغ کے لئے سفارتکاری، مکالمے، انصاف، تعلیم، ترقی اور انسانی وقارکے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات عالمی یومِ امن کے موقع پر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (آئی ایچ آر سی ) کے زیر اہتمام پہلی بین الاقوامی امن سربراہی کانفرنس 2026ء سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق رواں سال کے عالمی یومِ امن کے موضوع ”امن میں سرمایہ کاری ہر ایک کے لئے، ہر جگہ، ہر روز“ کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تصادم سے پہلے سفارتکاری، کشیدگی سے پہلے مکالمہ، انتہا پسندی کے مقابلے میں تعلیم اور مایوسی کے مقابلے میں ترقی کو ترجیح دی جانی چاہئے۔بین الاقوامی رہنماؤں، پارلیمنٹرینز، سفارتکاروں اور امن کے لئے کام کرنے والی شخصیات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ سلامتی، انصاف، وقار، مواقع اور امید کی موجودگی کا نام ہے۔ غزہ، یوکرین، سوڈان، ہیٹی اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری تنازعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جغرافیائی و سیاسی مفادات انسانی مصائب پر حاوی نہیں ہونے چاہئیں۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسانی زندگی، ہر بے گھر خاندان کے پیچھے ایک اجڑا ہوا گھر اور ہر تباہ شدہ سکول کے پیچھے ایک ایسے بچے کا مستقبل ہے جو متاثر ہوا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امن، سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اس لئے سلامتی کے تصور کو وسیع کرتے ہوئے انسانی وقار، تعلیم، معاشی مواقع اور سماجی شمولیت کو بھی اس کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہئے۔پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکالمہ ذمہ دارانہ ریاستی حکمتِ عملی کا ایک اہم ذریعہ ہے جبکہ پارلیمان اختلافات کو طاقت اور تشدد کے بجائے بحث، مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لئے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری مختلف ممالک کے درمیان تعاون، تنازعات کے حل اور باہمی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے پرامن تنازعات کے حل، ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام، کثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تصادم کے بجائے مکالمے، انتہا پسندی کے بجائے تعلیم، مایوسی کے بجائے ترقی اور نفرت کے بجائے انسانیت کا انتخاب کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن ایسا عالمی نصب العین ہونا چاہئے جو ہر روز، ہر جگہ اور ہر ایک کے لئےقائم کیا جائے۔

مزید خبریں