جنیوا۔ 16 جون (اے پی پی) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث عالمی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں رواں سال 40 فیصد کمی کا امکان ہے جبکہ آئندہ سال (2021 ء )صورتحال اس سے بھی بد تر ہوگی۔یہ بات اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کے سیکرٹری جنرل مخیسا کتیوئی نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔انھوں نے کہا کہ …
عالمی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں رواں سال 40 فیصد کمی کا امکان ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
جنیوا۔ 16 جون (اے پی پی) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث عالمی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں رواں سال 40 فیصد کمی کا امکان ہے جبکہ آئندہ سال (2021 ء )صورتحال اس سے بھی بد تر ہوگی۔یہ بات اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کے سیکرٹری جنرل مخیسا کتیوئی نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے دوسرے شعبوں کی طرح عالمی سطح پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی ہے، رواں سال اس کا حجم کم ہوکر 1 ٹریلین ڈالر سے بھی نیچے رہنے کاامکان ہے جبکہ 2019 ء کے دوران 1.54 ٹریلین ڈالر کی ایف ڈی آئی ہوئی تھی، یہ 2005 ء کے بعد اب تک کی کم ترین براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگی۔سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کورونا کے باعث ایف ڈی آئی آئندہ سال بھی کمی کا شکار رہے گی اور اس میں رواں سال کی نسبت 5 سے 10 فیصد مزید کمی کا امکان ہے ، تاہم 2022 ء میں صورتحال بہتری کی جانب جاسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث عالمی معیشت 2008 ء کے مالیاتی بحران کی مانند خراب ہوچکی ہے، وباء کے باعث عالمی سپلائی اور طلب بارے پالیسیوں کو بھی سخت دھچکا لگا ہے۔








