عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہیں، وفاقی وزیر عمر ایوب خان

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان نے عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 13 ارب ڈالر مالیت کے 58 منصوبے ترجیحی ترقیاتی شعبوں میں زیر عمل ہیں جن میں معاشی اصلاحات ، مالیات ، توانائی ، مواصلات ، تعلیم ، صحت اور سماجی تحفظ شامل ہیں ،مالی سال 2020-21 میں حکومت پاکستان نے عالمی بینک …

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان نے عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 13 ارب ڈالر مالیت کے 58 منصوبے ترجیحی ترقیاتی شعبوں میں زیر عمل ہیں جن میں معاشی اصلاحات ، مالیات ، توانائی ، مواصلات ، تعلیم ، صحت اور سماجی تحفظ شامل ہیں ،مالی سال 2020-21 میں حکومت پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ 3.64 بلین ڈالر کے 16 منصوبوں پر دستخط کئے۔

وفاقی وزیر برائے خزانہ شوکت ترین نے وفد کے ہمراہ جمعرات کو واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر ایکسل وین ٹراٹسن برگ سے ملاقات کی۔اس موقع پرگورنر اسٹیٹ بینک نے واشنگٹن میں اجلاس میں شرکت کی جبکہ وفاقی وزراء عمر ایوب خان اور حماد اظہر اجلاس میں آن لائن شریک ہوئے۔وفاقی وزیر نے عالمی بینک کے 12 ارب ڈالر کے عالمی اقدام کی تعریف کی جس نے ترقی پذیر ممالک کو کووڈ 19 ویکسین کی خریداری میں مدد فراہم کی۔ ڈبلیو بی کی 153 ملین ڈالر کی مالی امداد کے تحت ، پاکستان اپنے شہریوں کے لیے فائزر ویکسین خرید رہا ہے۔

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان نے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور کووڈ ویکسین کے لئے عالمی بینک کے تعاون کو سراہا۔اس وقت عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان ميں 13 ارب ڈالر کے 58 ترقیاتی منصوبوں پر كام جاری ہے۔ایکسل وین ٹراٹسن برگ ، منیجنگ ڈائریکٹر ، ورلڈ بینک نے حکومت پاکستان کی معاشی اصلاحات کی کوششوں کو سراہا۔وزیر برائے اقتصادی امور نے پائیدار معاشی ترقی کے لئے سڑکوں اور ڈیجیٹل نیٹ ورک کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں فریقوں نے پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ۔

ورلڈ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر ایکسل وان ٹراٹسن برگ نے معاشی اصلاحات کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ عالمی بینک کی ٹیم نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا جن میں سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ اور انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان شامل ہے۔ ایکسل نے حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی بینک کے عملے کو کابل سے نکالنے میں معاونت کی کوششوں کو بھی سراہا۔ دونوں فریقوں نے حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے تکنیکی اور مالی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔