گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے،پاکستان کو دنیا اب نئے اور متوازن زاویے سے دیکھ رہی ہے،پاکستان نے ثابت قدمی اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور اور پی پی اے ایف کے اشتراک سے گورنر ہائوس پشاور میں منگل کے روز معرکہ …
عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے، دنیا ہمیں اب نئے اور متوازن زاویے سے دیکھ رہی ہے، فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
پشاور۔ 21 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے،پاکستان کو دنیا اب نئے اور متوازن زاویے سے دیکھ رہی ہے،پاکستان نے ثابت قدمی اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور اور پی پی اے ایف کے اشتراک سے گورنر ہائوس پشاور میں منگل کے روز معرکہ حق سے عالمی ثالثی ، سفارتکاری اور معاشی مواقع تک” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی سفارتکاری میں اہم کردار ادا کیا۔
گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا جنوبی، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے کا تاریخی دروازہ ہے،یہ سرمایہ کاری، تجارت اور علاقائی روابط کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ معدنی وسائل، پن بجلی، تیل، گیس اور سیاحت کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی سفارت کاری پاکستان کی ترقی کا اہم ستون ہے،سیاحت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلے عالمی تعلقات کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں تعلیم، ٹیکنالوجی اور کاروبار میں مواقع دینا ہوں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کا مثبت عالمی تشخص اجاگر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،اوورسیز پاکستانی ملک کے بہترین سفیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بامقصد شراکت داری اور مشترکہ ترقی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، سفارت کاری کی کامیابی عوام کے لیے مواقع پیدا کرنے میں ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی،ایسی تقریبات واشنگٹن ، بیجنگ ، برسلز، جینوا ، ویانا، ماسکو اور لندن میں بھی ہو نی چاہئیں تاکہ پاکستان کا بیانیہ ہر عالمی فورم پر جائے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن، مواقع اور باہمی تعاون کی علامت کے طور پر پیش اور سرمایہ کاروں کو مثبت ماحول اور ون ونڈو سہولت فراہم کرنا ہوگی۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ درابن اکنامک زون میں امن و امان کی صورتحال سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، امن کے بغیر کوئی سرمایہ کار یہاں کا رخ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق سے اکنامک زون سے متعلق بات کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اوورسیز پاکستانی، صنعتکار اور کسان ملکی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر معاشی اصلاحات سے عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سیاحت، معدنیات، بجلی، گیس، تیل اور قیمتی پتھروں سے مالا مال ہے، جیمز اینڈ جیولری سیکٹر میں بے پناہ معاشی امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا تیل کی سب سے زیادہ پیداوار والا صوبہ ہے، یہاں آئل ریفائنریاں قائم ہونے سے صنعت اور روزگار کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ فیکٹریاں لگیں گی تو نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، صنعتی ترقی سے بے روزگاری میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امن ہی خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری اور ترقی کی بنیاد ہے، پائیدار امن کے بغیر معاشی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔







