عدالتی اصلاحات کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال، سپریم کورٹ آف پاکستان اور این سی ایچ آر کا منفرد اقدام

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر ) اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے تعاون سے اپنی نوعیت کے پہلا چار روزہ قومی پروگرام ”رِی وائرنگ رائٹس: ہیکاتھون برائے انصاف“ کا آغاز جمعہ 26 ستمبر سے ہوگا۔ اس پروگرام کا مقصد عدالتی اصلاحات کے لئے نوجوانوں کی اختراعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔بدھ کو این سی ایچ آر سے جاری پریس ریلیز کے …

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر ) اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے تعاون سے اپنی نوعیت کے پہلا چار روزہ قومی پروگرام ”رِی وائرنگ رائٹس: ہیکاتھون برائے انصاف“ کا آغاز جمعہ 26 ستمبر سے ہوگا۔ اس پروگرام کا مقصد عدالتی اصلاحات کے لئے نوجوانوں کی اختراعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔بدھ کو این سی ایچ آر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ اہم اقدام یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی )، یورپی یونین (ای یو )، ایکسیلیریٹ پراسپرٹی (اے پی ) اور کے ایف ڈبلیو (کے ایف ڈبلیو ) کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

اس ہیکاتھون میں مختلف شعبہ جات کے طلبا کی ٹیمیں اور نوجوان بانی شرکت کریں گے جو پاکستان کے عدالتی نظام کو درپیش سب سے سنگین چیلنجز کے لئے قابلِ عمل ٹیکنالوجی پر مبنی حل پیش کریں گےجبکہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر فار ایرو سپیس ٹیکنالوجیز (NICAT) اور او وینچرز (O Ventures) اس پروگرام کے عملی نفاذ کے شراکت دار ہیں ۔یو این ایف پی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور پنجاب کی عدالتوں میں سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے ساتھ مؤثر طریقے سے بات چیت کے لئے ضروری انفراسٹرکچر کا فقدان ہے۔

ان چار دنوں کے دوران شرکاء ورکشاپس، رہنمائی کے سیشنزاور باہمی تعاون پر مبنی مسائل کے حل میں مصروف رہیں گے۔ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز، سروس بلیو پرنٹس اور ڈیٹا پر مبنی حل ڈیزائن کریں گے۔ ایک سخت مقابلے والے پِچ سیشن میں ٹیمز قانونی، ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے ماہرین پر مشتمل ایک باوقار جیوری کے سامنے اپنے پروٹو ٹائپس پیش کریں گی۔ سب سے زیادہ امید افزا آئیڈیاز کو مزیدتقویت دینے  کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی اور تاکہ انھیں  ملک گیر سطح پر نافذ کیا جاسکے۔

چیئرپرسن قومی کمیشن برائے انسانی حقوق رابعہ جویری آغا نے عدالتی نظام کے از سرِ نو تصور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ”ہماری عدالتوں اور اداروں کو جامع اور اختراعی نئے خیالات کی ضرورت ہے۔ طلباء اور نوجوان بانیان  کو شامل کر کے یہ ہیکاتھون پاکستان کے نوجوانوں کی توانائی کو عدالتی اصلاحات کے لیے استعمال کر رہا ہےجس سے ثابت ہوتا ہے کہ  ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق الگ میدان نہیں، بلکہ سب کے لئے وقار، مساوات اور جوابدہی کو یقینی بنانے میں طاقتور اتحادی ہیں۔یہ اقدام اپریل 2025 میں این سی ایچ آر اور یو این ڈی پی کے مشترکہ زیر اہتمام منعقدہ ”وعدہ برائے عمل (Promise to Action)“ کانفرنس کو عملی جامع پہنا رہا ہے۔

یاد رہے اس کانفرنس میں انصاف اور مساوات کے وعدوں کو ٹھوس حل میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ یہ ہیکاتھون اسی جذبے کا عملی مظہر ہے،جو مکالمے کو اختراع میں اور وعدوں کو اصلاحات کے عملی راستوں میں بدل دے گا ۔پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم ہے، این سی ایچ آر کا ماننا ہے کہ ”رِی وائرنگ رائٹس: ہیکاتھون برائے انصاف“جیسے اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا شہریوں اور اداروں کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔ یہ ہیکاتھون نہ صرف انصاف کی فراہمی کیلئے  عملی حل پیش کرے گا  اور ایسے لوگوں کیلئے بھی پُر اثر ثابت ہوگا  جو انصاف سب کیلئے پر یقین رکھتے ہیں اور انصاف کی فراہمی کو ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

مزید خبریں