عدالتی نظام کو عوام دوست، شفاف اور تیز رفتار بنانے کے لیے پرعزم ہیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

عدالتی نظام کو عوام دوست، شفاف اور تیز رفتار بنانے کے لیے پرعزم ہیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کو عوام دوست، شفاف، تیز رفتار اور کم لاگت بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں جبکہ انصاف کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کے موثر استعمال، متبادل تنازعاتی حل اور صنفی حساس عدالتی نظام کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یہ بات انہوں نے یورپی یونین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی جس کی قیادت یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کاروبلس (Raimundas Karoblis) نے کی۔

ملاقات سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق وفد میں جیرون ولیمس ہیڈ آف کوآپریشن، پیوٹر بشٹا ہیڈ آف پولیٹیکل سیکشن، سباسٹین لوریون گورننس اینڈ ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ اور انا کیلی ڈویلپمنٹ ایڈوائزر (رول آف لاء) شامل تھے۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر نازیہ شیخ سمیت سپریم کورٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔چیف جسٹس نے وفد کو عدلیہ میں جاری اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نظام انصاف کو زیادہ موثر اور سستا بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی بہتری پر کام تیزی سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کے بوجھ میں کمی کے لیے ثالثی اور مصالحت جیسے متبادل طریقہ ہائے کار کو فروغ دیا جا رہا ہے، خصوصاً تجارتی اور ریونیو کیسز میں ان اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ملاقات میں ’’جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو 2026-27‘‘ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جس کے تحت ملک بھر کے عدالتی کمپلیکسز میں خواتین سہولت مراکز کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ خواتین سائلین کو محفوظ، مربوط اور موثر سہولت فراہم کی جا سکے۔اعلامیo کے مطابق گفتگو کے دوران جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کے ادارہ جاتی حل اور آئینی دائرہ کار میں عدالتی آزادی کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یورپی یونین کے وفد نے پاکستان کی عدلیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی، شفافیت، عدالتی کارکردگی اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام انصاف کے فروغ کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ وفد نے خاص طور پر ثالثی، صنفی حساس انصاف اور عوامی سہولت پر مبنی اصلاحات کی حمایت کا اظہار کیا۔ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، عدالتی استعداد اور جامع طرز حکمرانی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط کیا جائے گا۔ آخر میں چیف جسٹس نے یورپی یونین کے وفد کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔