عدالت کو مطلوب مجرم نواز شریف کو برطانیہ سے واپس لانے کے لئے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کر رہے ہیں ،15جنوری 2021 تک محمد نواز شریف جیل میں ہونگے ،وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹرشبلی فراز کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ عدالت کو مطلوب مجرم نواز شریف کو برطانیہ سے واپس لانے کے لئے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کر رہے ہیں ،15جنوری 2021 تک محمد نواز شریف کوٹ لکھپت یا کسی اور جیل میں ہونگے ، کرپشن زدہ اپوزیشن کی اصل جگہ جیل ہے ،سندھ واقعہ ایک ڈرامہ ہے ، حقیقت میں ن لیگ اور …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ عدالت کو مطلوب مجرم نواز شریف کو برطانیہ سے واپس لانے کے لئے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کر رہے ہیں ،15جنوری 2021 تک محمد نواز شریف کوٹ لکھپت یا کسی اور جیل میں ہونگے ، کرپشن زدہ اپوزیشن کی اصل جگہ جیل ہے ،سندھ واقعہ ایک ڈرامہ ہے ، حقیقت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی آپس میں گیم کر رہے ہیں ، کیپٹن صفدر گرفتاری کی ویڈیو فوٹیج نے سندھ حکومت اور مسلم لیگ ن کے بہت سے دعوئوں اور سفید جھوٹ پر پانی پھیر دیا ، دورازہ توڑنے ، کھینچا تانی یا زبردستی کہیں بھی نظر نہیں آئی ،ان کی سیاست ختم ہو گئی ، مسلم لیگ ن تقسیم ہو رہی ہے،ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت اور پولیس کا معاملہ ہے،پیپلز پارٹی کا کردار جانتے ہیں ،18 ویں ترمیم کا مقصد بھی واضح ہوچکا ہے کہ یہ وفاق کو کمزور کرنا چاہتے تھے ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی سیاست جھوٹ ،منافقت اور ریا کاری پر مبنی ہے ، مریم نوازکے چہرے پر آج پریشانی اور بوکھلاہٹ کے آثار نمایاں تھے۔ وہ جمعہ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ میڈیا چینلز پر کراچی میں ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج نشر ہوئی،اس فوٹیج میں ان کے دعوے کے مطابق ٹوٹا ہوا دروازہ نہیں دکھایا گیا،فوٹیج کے مطابق ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اطمینان سے پولیس کی حراست میں تھے، مریم صفدر کے حواریوں نے متعدد بار چادر اور چاردیواری کے تحفظ کا ذکر کیا ،یہ لوگ بھول گئے کہ انہوں نے اپنے دور میں ماڈل ٹاؤن واقعہ میں خواتین کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ان لوگوں کی جانب سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی سے سب واقف ہیں، کراچی واقعے کے حوالے سے مریم نواز اور سندھ حکومت کے بیانات متضاد ہیں،ان کے متضاد بیانات سے لگتا ہے کہ بلاول نے شاید ان سے اپنی والدہ کا بدلہ لے لیا ۔ انہوں نے کہا کہ مریم صفدر ،نواز شریف اور دیگر سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،یہ لوگ مسلسل جھوٹ بولتے ہیں، ان کی سیاست جھوٹ اور ریاکاری پر مبنی ہے، یہ لوگ کرپشن کے ماہر ہیں، انہوں نے قومی دولت پر ڈاکہ ڈالا،ووٹ کو عزت دو کے دعوے داروں نے اپنے دور میں نوٹ کو عزت دی، یہ لوگ اصل واقعے سے توجہ ہٹانے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں ، ان لوگوں کی جانب سے مزار قائد کی بے حرمتی کا ذکر کیوں نہیں ہوا؟ انہوں نے کہا کہ شاہی خاندان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے ، مریم نواز اور نواز شریف کے تاحیات ترجمان بھی سفید جھوٹ کے ماہر ہیں ،یہ لوگ ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ بھی شرما جاتا ہے ، ان لوگوں کے ناٹک اپنی جگہ حکومت معیشت کو مزید مستحکم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اسی لئے پاکستان میں ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں ،پاکستان کی ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر ہیں ، پہلی دفعہ کرنٹ اکائونٹ پلس میں آچکا ہے ، تعمیرات کا شعبہ ترقی کی جانب گامزن ہے ،سیمنٹ ،گاڑیوں ،موٹرسائیکلوں کی ریکارڈ رفروخت ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تارکین وطن عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کررہے ہیں اور ہر آنے والے دن ترسیلات میں مثبت اضافہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی والوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے ان کا ٹھکانہ جیل ہی ہے کیونکہ کرپشن کرنے والے کسی صورت نہیں بچ سکیں گے یہ وزیراعظم عمران خان کا قوم سے وعدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر اعوان کی گرفتاری سے وفاق کا کوئی تعلق نہیں ،سندھ پولیس نے ان کی گرفتاری کی اور اس معاملے میں سندھ حکومت ہی ہر جگہ پر جوابدہ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کرپشن اور ڈالر کو مصنوعی کیپ پہنانے کا ماہر ہے ، اسحاق ڈار کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکسان کو خفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی کی بڑی سیاسی جماعتوں جنہوں نے حکومت کی ہے ان کی جائیدادیں بیرون ممالک میں ہیں اسی لئے ان لوگوں نے برطانیہ ، امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کے معاہدے ہی نہیں کیے ۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لئے تمام ذرائع استعما ل کر رہے ہیں ، 15جنوری تک نواز شریف پاکستان کے اندر کوٹ لکھپت یا کسی اور جیل میں ہونگے ۔