عدم مداخلت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے، سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ صورتحال سے واضح ہوا ہے کہ کشیدگی تیزی سے علاقائی حدود عبور کرتے ہوئے عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور اقتصادی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔

ریاض ۔22جولائی (اے پی پی):سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ صورتحال سے واضح ہوا ہے کہ کشیدگی تیزی سے علاقائی حدود عبور کرتے ہوئے عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور اقتصادی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔

الاخباریہ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ سفارتی حل کا کوئی متبادل نہیں، محض عسکری طاقت ہی دائمی طور پر قیام امن کی ضامن نہیں ہو سکتی۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے گلف ریسرچ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مقصد محض کشیدگی کو محدود کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصل اور بنیادی وجوہ کا تدارک، باہمی اعتماد کی بحالی اور ایسے مضبوط علاقائی نظام کا قیام اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نظام جو ریاستوں کی خود مختاری کے احترام، ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، پڑوسیوں کے ساتھ اچھے معاملات، بحری جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مشتمل ہو۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ ’خود مختاری کے احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔خطاب میں انہوں نے کہا کہ جارحیت اور بالادستی کی پالیسیاں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاوا دیتی ہیں، خطے کے استحکام اور ترقی و خوشحالی کے منافی ہیں۔