گزشتہ سال 114.1 ارب ڈالرز سکیمنگ کے ذریعے لوٹ لیے گئے، اقوام متحدہ

جنوب مشرقی ایشیا میں قائم جرائم پیشہ گروہ تیزی سے مربوط نیٹ ورکس اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی غیر قانونی معیشت تشکیل دے رہے ہیں جو نہایت تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور جس کے اثرات ایشیا سے بہت آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ ۔22جولائی (اے پی پی):جنوب مشرقی ایشیا میں قائم جرائم پیشہ گروہ تیزی سے مربوط نیٹ ورکس اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی غیر قانونی معیشت تشکیل دے رہے ہیں جو نہایت تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور جس کے اثرات ایشیا سے بہت آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اردو نیو ز کے مطابق اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف دھوکہ دہی (سکیمنگ) کے ذریعے 2025 میں عالمی سطح پر 88.3 ارب سے 114.1 ارب ڈالر تک لوٹ لیے گئے۔اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یواین او ڈی سی ) کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جرائم جو پہلے زیادہ تر جنوب مشرقی ایشیا تک محدود تھے، اب دیگر خطوں تک پھیل چکے ہیں، جبکہ عالمی جرائم پیشہ گروہ ایشیا میں منشیات، انسانی سمگلنگ اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت میں بھی ملوث ہیں۔رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ عناصر نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام میں منی لانڈرنگ کر رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔رپورٹ کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ بچوں کو مصنوعی ذہانت اور آن لائن گیمنگ دونوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں پھیلے ہوئے متعدد سکیمر کمپاؤنڈز جنسی سمگلنگ اور بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض مواد کی خرید و فروخت کے مراکز بن چکے ہیں۔

یو این او ڈی سی کے محقق انشک سم کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ بچوں کی فحش تصاویر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو خفیہ مواصلاتی پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کی جا رہی ہیں۔مشرقی ایشیائی جرائم پیشہ گروہ میل ویئر، جنریٹو اے آئی اور ڈیپ فیکس جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہوئے جنسی بلیک میلنگ اور استحصال میں ملوث ہیں۔ اس رجحان کے باعث نہ صرف آن لائن بلکہ حقیقی دنیا میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جن میں لائیو سٹریمنگ کے ذریعے استحصال اور متاثرین کو پھانسنے (گرومنگ) جیسے حربے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق، متاثرین کو صرف جنسی صنعت تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ انہیں گھریلو غلامی، جبری بھیک منگوانے اور جبری مشقت جیسے دیگر استحصالی کاموں میں بھی دھکیلا جاتا ہے۔سوشل میڈیا، آن لائن گیمنگ اور جوئے کی ویب سائٹس بھی بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔ رائے شماری کے جائزوں کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں سینکڑوں بچے اور نوجوان آن لائن جوئے میں ملوث ہیں، جن میں سے بعض اس کے عادی ہو چکے ہیں۔