عظیم کسادبازاری کے بعد2020ءبین الاقوامی معیشت کے لئے مشکل ترین سال ہے، آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹلینا جوارگیواکی ویڈیو کانفرنس

اسلام آباد ۔ 10اپریل (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹلینا جوارگیوا نے کہا ہے کہ 1930 ءکے عشرہ میں عظیم کسادبازاری کے بعد 2020ءبین الاقوامی معیشت کیلئے کیلئے مشکل ترین سال ہے اورکورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے 170 سے زائد ممالک میں فی کس آمدنی میں کمی کا امکان ہے۔انہوں نے یہ بات آئی ایم ایف اورعالمی بنک کے سالانہ …

اسلام آباد ۔ 10اپریل (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹلینا جوارگیوا نے کہا ہے کہ 1930 ءکے عشرہ میں عظیم کسادبازاری کے بعد 2020ءبین الاقوامی معیشت کیلئے کیلئے مشکل ترین سال ہے اورکورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے 170 سے زائد ممالک میں فی کس آمدنی میں کمی کا امکان ہے۔انہوں نے یہ بات آئی ایم ایف اورعالمی بنک کے سالانہ اجلاس سے قبل منعقد ہونے والی ویڈیو کانفرنس میں کہی ہے۔انہوں نے کہاکہ تین ماہ قبل 160 سے زائد ممالک میں فی کس آمدنی میں اضافہ کی توقع ظاہرکی جارہی تھی،کورونا وائرس کی وجہ سے یہ اعدادوشمارسرکے بل گرے ہیں اوراب 170 سے زائد ممالک میں سال 2020ءکے دوران منفی بڑھوتری کی پیشنگوئیاں کی جارہی ہیں۔یہ صورتحال ترقی یافتہ اورترقی پذیرممالک کیلئے یکساں ہیں۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرکا کہناتھا کہ کورونا وائرس کومحدودکرنے کیلئے لاک ڈاون کی پالیسی کی وجہ اقتصادیات پرمنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔لاک ڈاون کی وجہ سے ریٹیل، میزبانی،ٹرانسپورٹ اورسیاحت کے شعبے زیادہ متاثرہیں، ان شعبوں میں زیادہ ترخودروزگاری اورچھوٹے ودرمیانہ درجہ کے کاروباری اداروںنے روزگارفراہم کیا تھا۔انہوں ںنے کہاکہ جس طرح کورونا وائرس نے مخدوش صحت کے حامل افراد کو زیادہ متاثرکیا اسی طرح معاشی بحران اقتصادی طورپرکمزورممالک کوبری طرح سے متاثرکرے گا اورکررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایشیائ، لاطینی امریکا اورافریقہ میں ابھرتی ہوئی منڈیاں اورکم آمدنی والے ممالک زیادہ خطرے میںہیں، ان خطوں میں آبادی زیادہ اورصحت عامہ کانظام کمزورہے، زیادہ آبادی والے علاقوں میں سماجی دوری کے اصولوں پرعمل پیراہونا مشکل ہے، ان علاقوں میں طلب اور رسد کی صورتحال میں بھی عدم توازن ہے، علاوہ ازیں حالیہ بحران سے ان ممالک کی معیشیتوںپربیرونی دباﺅ میں بھی اضافہ ہورہاہے، گزشتہ دوماہ میں ان ممالک سے پورٹ پولیوسرمایہ کاری کرنے والوں نے 100 ارب ڈالر واپس منتقل کئے ہیں ،یہ شرح بہت زیادہ ہے۔تاہم انہوں نے کہاکہ خوش آئند امر یہ ہے کہ بیشترممالک نے زری ومالیاتی پالیسی میں ردوبدل کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے شعبے میں اقدامات کئے ہیںعلاوہ ازیں گروپ 20 ممالک نے بھی مانیٹری اقدامات کا پہلے سے اعلان کردیا ہے، اگر سال کے آخر میں وائرس پرقابو پانے میں کامیابی ملی تو آئندہ سال سے بحالی کاعمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔

مزید خبریں