اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):قومی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم اور سائنسدانوں نے موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، توانائی اور صحت جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الشعبہ جاتی تحقیق اور عالمی سطح پر سائنسی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس’’فرنٹیئر ان سائنس ‘‘ کے افتتاحی سیشن کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جدید سائنسی تحقیق کو اقوام …
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):قومی و بین الاقوامی ماہرین تعلیم اور سائنسدانوں نے موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، توانائی اور صحت جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الشعبہ جاتی تحقیق اور عالمی سطح پر سائنسی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس’’فرنٹیئر ان سائنس ‘‘ کے افتتاحی سیشن کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جدید سائنسی تحقیق کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اور مشترکہ پالیسی اپنائی جائے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ سردیوں کا دورانیہ کم اور گرمیوں کا دورانیہ طویل ہو چکا ہے، بارشوں کے نظام میں شدید تبدیلی آ گئی ہے جس کے باعث ملک کی مجموعی موسمی سمت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کا حل صرف انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ دنیا کو ایک اکائی کے طور پر سوچتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
اس موقع پر مقررین نے قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ قرآن کے اصول آفاقی اور دائمی ہیں جن میں موجودہ دور کے مسائل کا حل موجود ہے۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان سائنس فائونڈیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اکمل تھے۔ دیگر کلیدی مقررین میں یونیورسٹی آف نارووال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود، سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود اور ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد شامل تھے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے تخلیقی خیالات اور تحقیقی منصوبوں کو عملی شکل دی جائے، انہیں کاروباری ماڈلز میں تبدیل کیا جائے اور مارکیٹ سے جوڑا جائے تاکہ طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ملک کی معاشی ترقی میں اضافہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جامعات کا کردار محض تعلیم تک محدود نہیں رہا بلکہ انہیں تحقیق، جدت اور پالیسی سازی کے درمیان ایک موثر پل کے طور پر کام کرنا ہوگا، پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی فلاح کے اہداف صرف اسی صورت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب سائنسی تحقیق کو زمینی حقائق اور معاشرتی ضروریات سے جوڑا جائے۔
ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد نے کہا کہ یہ کانفرنس جدید سائنسی رجحانات، تحقیق کے نئے افق اور عالمی سطح پر تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ بین الشعبہ جاتی اشتراک سے نہ صرف تحقیق کے معیار میں بہتری آتی ہے بلکہ اس کے عملی فوائد بھی براہ راست معاشرے تک منتقل ہوتے ہیں۔کانفرنس سیکرٹری ڈاکٹر صائمہ قدیر کے مطابق دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں قومی و عالمی سطح کے ممتاز ماہرین سائنس کی کلیدی تقاریر، موضوعاتی سیشنز، تحقیقی مقالہ جات کی پیشکش اور پالیسی مکالمے شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد سائنس اور معاشرے کے درمیان مضبوط ربط قائم کرنا، جدید سائنسی ترقیات کو اجاگر کرنا، نوجوان محققین اور جدت کاروں کو بااختیار بنانا اور عالمی تعلیمی و تحقیقی شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے۔







