علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام تیسرے ’’اوپن ہاؤس اینڈ انوویشن شوکیس‘‘ کا انعقاد

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے زیرِ اہتمام’’کمپیوٹ ایکس 2026 ‘‘ کے عنوان سے تیسرے ’’اوپن ہاؤس اینڈ انوویشن شوکیس‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ نے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، پروگرامنگ، ویب اور موبائل ایپلی کیشنز سمیت مختلف شعبوں میں اپنے اختراعی منصوبے اور تخلیقی تصورات پیش کیے۔

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے زیرِ اہتمام’’کمپیوٹ ایکس 2026 ‘‘ کے عنوان سے تیسرے ’’اوپن ہاؤس اینڈ انوویشن شوکیس‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ نے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، پروگرامنگ، ویب اور موبائل ایپلی کیشنز سمیت مختلف شعبوں میں اپنے اختراعی منصوبے اور تخلیقی تصورات پیش کیے۔ نمائش میں پیش کیے گئے منصوبوں نے طلبہ کی تکنیکی مہارت، تحقیقی استعداد اور عملی مسائل کے جدید حل تلاش کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔تقریب کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کیا۔

اس موقع پر یونیورسٹی کے ڈینز، فیکلٹی ممبران، مختلف جامعات کے اساتذہ، طلبہ، محققین، صنعتی اداروں کے نمائندوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے نمائش کا تفصیلی دورہ کیا، مختلف اسٹالز پر طلبہ کے منصوبوں، سافٹ ویئر ایپلی کیشنز اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تخلیقات کا جائزہ لیا اور طلبہ سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ کی فنی مہارت، تخلیقی سوچ اور اختراعی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی اختراعات کو مارکیٹ تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں کو مزید بہتر بنایا جائے، انہیں صنعت اور کاروباری شعبے کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور مارکیٹ تک رسائی دی جائے تاکہ یہ اختراعات معاشرے کے لیے مؤثر، قابلِ عمل اور دیرپا فوائد کا ذریعہ بن سکیں۔

وائس چانسلر نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی طلبہ میں تحقیق، جدت، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار تعلیمی ماحول فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی نوجوانوں کو ایسے مواقع فراہم کرتی رہے گی جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو عملی شکل دے کر قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب مواقع، مؤثر رہنمائی اور بھرپور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے طلبہ مستقبل کے سائنس دان، انجینئر، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور ٹیکنالوجی لیڈرز ہیں جو اپنی اختراعات کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

کمپیوٹ ایکس 2026ء میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹکس، ویب اور موبائل ایپلی کیشنز، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید شعبوں سے متعلق متعدد منصوبے نمائش کے لیے پیش کیے گئے جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔ شرکاء نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، تحقیق و اختراع کو فروغ دینے اور تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر طلبہ کے مابین پروگرامنگ مقابلہ، کمپیوٹنگ معلوماتی مقابلہ (کوئز)، ڈیجیٹل پوسٹر ڈیزائن مقابلہ اور ای گیمنگ مقابلوں کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں طلبہ نے بھرپور جوش و خروش سے حصہ لیا اور اپنی فنی و تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

 

مزید خبریں