علما اور مشائخ ان لوگوں کی گھنائونی سیاست سے گریز کریں جو ”ووٹ کو عزت دو“ کے نام پر پاک فوج کے خلاف مہم چلا رہے ہیں،وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری

لاہور۔15نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری نے علما اور مشائخ سے ملک کو مضبوط بنانے کے لئے بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ اتوار کے روز یہاں جلوپارک میں جشن میلاد النبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علما اور مشائخ کو ان لوگوں کی گھناو ¿نی سیاست سے گریز کرنا …

لاہور۔15نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری نے علما اور مشائخ سے ملک کو مضبوط بنانے کے لئے بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ اتوار کے روز یہاں جلوپارک میں جشن میلاد النبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علما اور مشائخ کو ان لوگوں کی گھناو ¿نی سیاست سے گریز کرنا چاہئے جو "ووٹ کو عزت دو” کے نام پر پاک فوج کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج قوم کی یکجہتی اور اتحاد کی پاسبان ہے اور کسی بھی تنظیم کو اس کےخلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اورریاست دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ریاست تشکیل دی جس کو ریاست مدینہ کہا جاتا ہے جو اسلام کو مضبوط کرتی ہے۔” لہذا علما اور مشائخ کو ریاست کو مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر قوم مذہب کی توہین کی صورت میں دنیا کو جواب دینا چاہتی ہے تو اسے زندگی کے تمام شعبوں خصوصا معیشت میں مضبوط ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے فخر کی بات ہے کہ عالم اسلام کے صرف دو بین الاقوامی رہنما ئوں نے گستاخانہ بیانات پر فرانسیسی صدر کے خلاف آواز اٹھائی اور وزیر اعظم عمران خان ان دو رہنمائوں میں سے ایک تھے جب کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان دوسرے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مغرب کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تقریر کی آزادی اور 2 ارب لوگوں کے مذہب کی توہین دو مختلف چیزیں ہیں۔” وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ علما اور مشائخ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں کیونکہ اس طرح کی سازشوں سے دشمن کو عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "علمائے اسلام کو اب اسلام کے مختلف فرقوں میں اختلافات کو ختم کرنے یا ان کو کم کرنے اور ان کو متحد کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔