عوامی مزاج محتاط انداز میں بہتری کی جانب گامزن ،پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی استحکام، مؤثر طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ،خرم شہزاد

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برسوں کی معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور قدرتی آفات کے بعد مجموعی طور پر پاکستان کا عوامی مزاج محتاط انداز میں بہتری کی جانب گامزن ہےاور اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل معاشی استحکام، مؤثر طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کلیدی اہمیت کے حامل ہے ۔ جمعہ کو ایکس پر جاری …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برسوں کی معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور قدرتی آفات کے بعد مجموعی طور پر پاکستان کا عوامی مزاج محتاط انداز میں بہتری کی جانب گامزن ہےاور اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل معاشی استحکام، مؤثر طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کلیدی اہمیت کے حامل ہے ۔ جمعہ کو ایکس پر جاری پیغام میں انہوں نے گیلپ سروے 2025کے حوالے سے بتایا کہ 2025 میں پاکستان میں عوامی جذبات میں بہتری دیکھی گئی، اگرچہ لوگ مستقبل کے بارے میں اب بھی محتاط ہیں،

31 فیصد پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ معیارِ زندگی بہتر ہو رہا ہے، جبکہ 2023 میں یہ شرح صرف 15 فیصد تھی،معاشی طور پر پر امید ی میں اضافہ ہوا، 2025 میں 25 فیصد افراد نے مقامی معیشت میں بہتری کی بات کی، جبکہ 2024 میں یہ شرح 12 فیصد تھی،یہ بہتری معاشی استحکام کے بعد سامنے آئی، جس میں افراطِ زر میں کمی (مئی 2023 میں تقریباً 40 فیصد سےکم ہوکر 6 فیصد سے بھی کم)، مضبوط ہوتی کرنسی اور بڑھتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سروے میں قیادت کی مقبولیت بڑھ کر 36 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2020 کے بعد بلند ترین سطح ہے،بدعنوانی کے بارے میں منفی تاثر 2023 کی ریکارڈ بلند سطح سے کم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود میں نمایاں بہتری آئی، سروے میں 25 فیصد افراد کو ’’خوشحال‘‘ اور 19 فیصد کو ’’مشکلات کا شکار‘‘قرار دیا گیا، جو 2024 میں دیکھی گئی انتہائی کم سطح سے واضح تبدیلی ہے۔فلاح و بہبود میں یہ بہتری صنف، عمر، آمدنی اور شہری و دیہی تمام طبقات میں یکساں طور پر دیکھی گئی۔خرم شہزاد نے کہا کہ برسوں کی معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور قدرتی آفات کے بعد مجموعی طور پر پاکستان کا عوامی مزاج محتاط انداز میں بہتری کی جانب گامزن ہےاور اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل معاشی استحکام، مؤثر طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔