عوامی مفاد کے منصوبوں میں حائل قانونی و انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، آفتاب عالم

خیبرپختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت منگل کے روز کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔محکمہ قانون خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں شہری ترقی سے متعلق قوانین میں مجوزہ ترامیم، بی آر ٹی منصوبے سے وابستہ مالی و انتظامی امور اور دیگر اہم سرکاری معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

پشاور۔ 14 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت منگل کے روز کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔محکمہ قانون خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں شہری ترقی سے متعلق قوانین میں مجوزہ ترامیم، بی آر ٹی منصوبے سے وابستہ مالی و انتظامی امور اور دیگر اہم سرکاری معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر برائے بلدیات و دیہی ترقی، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ محمد زبیر، چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، محکمہ قانون، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی، یو اے ڈی اے (UADA)، پی ڈی اے (PDA)، ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) ایکٹ 2017 اور اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (UADA) ایکٹ 2020 میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات اور اجلاس کے منٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر رٹ پٹیشن نمبر 1220/2024 کے تناظر میں قانونی، آئینی اور انتظامی پہلوؤں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ حکومت کا مؤقف عدالت کے سامنے مزید مضبوط، مؤثر اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔کمیٹی نے پلاٹ الاٹمنٹ سے متعلق موجودہ قانونی شقوں میں پائے جانے والے سقم، مروجہ ہاؤسنگ پالیسی کے نقائص، عدالتی احکامات اور مروجہ قوانین کی روشنی میں ضروری اصلاحات پر غور کیا۔

اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ریگولر ملازمین اور سول سرونٹس کے لیے کوٹہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے ان ملازمین کی واضح درجہ بندی پیش کی جائے جن کے حقوق (Accrued Rights) پہلے سے محفوظ ہیں اور جن کے نہیں۔ مزید برآں پلاٹ الاٹمنٹ کے لیے کم از کم مارکیٹ ویلیو مقرر کرنے، رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے واضح ٹرمز اینڈ کنڈیشنز وضع کرنے، یو اے ڈی اے ایکٹ کے تحت درکار ریگولیشنز کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے اور پہلے سے مستفید ہونے والے بینیفیشریز کو نئی اسکیموں سے خارج رکھنے سے متعلق بھی احکامات جاری کیے گئے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں پی ڈی اے اور یو اے ڈی اے کے قانونی مشیروں کو طلب کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے کینٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ مالی ادائیگیوں اور دیگر قانونی و انتظامی معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی مشاورت، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق ان معاملات کو جلد از جلد نمٹائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار متاثر نہ ہو اور عوام کو معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔ اس ضمن میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی سربراہی میں تمام متعلقہ معاملات کو حتمی شکل دے کر سفارشات آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت وزیراعلیٰ کی قیادت میں قانون کی حکمرانی، شفاف طرزِ حکمرانی اور مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری ترقی سے متعلق قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں اور انتظامی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی قانون سازی کو ترجیح دے رہی ہے جو عوامی مفاد کے تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ، مؤثر شہری منصوبہ بندی، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے۔ تمام مجوزہ ترامیم کو آئینی تقاضوں، عدالتی فیصلوں اور عوامی مفاد کی روشنی میں حتمی شکل دی جائے گی۔آفتاب عالم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مؤثر بناتے ہوئے تمام قانونی و انتظامی امور مقررہ مدت میں مکمل کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ ہو، شہری ترقی کے عمل میں شفافیت آئے اور عوام کو بہتر شہری سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔