لاہور۔16نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں عوام پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ اس وبا سے بچائوکیلئے ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنائیں، حضور اکرم کا اسوہ حسنہ اور سیرت طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے، وزیراعظم عمران خان ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہاں ہیں، ہمیں مل کر ان کا ساتھ دینا ہو گا، ناموس …
عوام کورونا سے بچائوکیلئے ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنائیں، حضور اکرم کا اسوہ حسنہ اور سیرت طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
لاہور۔16نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں عوام پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ اس وبا سے بچائوکیلئے ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنائیں، حضور اکرم کا اسوہ حسنہ اور سیرت طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے، وزیراعظم عمران خان ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہاں ہیں، ہمیں مل کر ان کا ساتھ دینا ہو گا، ناموس رسالت پر آنچ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، مغربی ممالک کو ناموس رسالت کے معاملہ پر اپنے جذبات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر تیزی سے جاری ہے، عوام ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور سماجی فاصلہ رکھیں، کورونا سے بچائوکے ایس او پیز پر عملدرآمد خود آپ اور آپ کے رشتے داروں کی بھلائی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کورونا وبا سے مقابلہ کرنے کیلئے ڈسپلن قائم کرنے ضرورت ہے، جو قومیں ڈسپلن کا مظاہرہ کرتی ہیں اﷲ تعالیٰ بھی ان کا ساتھ دیتا ہے، ہم نے کورونا کی پہلی لہر کے دوران ڈسپلن کا مظاہرہ کیا تو کورونا کے خلاف جنگ کافی حد تک جیت لی جس کے بعد ہم نے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد میں سستی کا مظاہرہ شروع کر دیا، اب پھر کورونا کیسز میں تیزی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسپلن سے قومیں خوشحال ہوتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں، مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات میں ڈسپلن پر عملدرآمد کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول کریم کے اسوہ حسنہ ہمارے لئے رہنما اصول ہیں، حضور اکرم کا اسوہ حسنہ اور سیرت طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم نے اپنی زندگی میں انصاف کی شاندار مثالیں قائم کیں، اسلام کے پیغام میں سماجی رویوں سے متعلق واضح احکامات موجود ہیں، ہمیں سماجی رویوں سے متعلق حضور اکرم کی سیرت طیبہ پر عمل کرنا چاہئے، حضور اکرم نے ارشاد فرمایا ”آواز دھیمی رکھیں، نظریں نیچی رکھیں، بازار سے ایسے گزریں جس سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو“۔ حضور اکرم نے معاشرہ میں عفو و درگزر کا درس دیا، رسول کریم نے 1400 سال پہلے عورت کو وراثت دینے کا کہا، قرآن پاک میں طہارت، شجرکاری اور پانی کے استعمال سے متعلق واضح ہدایات ہیں، پانچ وقت کی نماز کیلئے وضو سے کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور پاک ریاست مدینہ میں بے یارومددگار کا سہارا بنے، وزیراعظم عمران خان ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہاں ہیں، ہمیں مل کر ان کا ساتھ دینا ہو گا، حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کو اٹھانے کی کوشش کی ہے، غریبوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیں اپنے رویوں میں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنے کی ضرورت ہے، یہی ریاست مدینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت پر آنچ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، اس معاملہ پر سخت احتجاج کرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے ناموس رسالت کے معاملہ کو عالمی سطح پر اٹھایا ہے، اپنے ملک میں توڑ پھوڑ سے اپنے ہی ملک کا نقصان ہوتا ہے، مغربی ممالک کو ناموس رسالت کے معاملہ پر اپنے جذبات سے آگاہ کرنے کیلئے بات چیت کی راہ اپنانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کو بیرون ملک تعلیم کے دوران احساس ہوا کہ مسلمان زوال پذیر ہیں اور وہ اپنے زوال پذیر ہونے کی وجوہات سے باہر نکلنے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں، مسلمانوں کی اب بھی نشاة ثانیہ ہو گی تاہم ہمیں اس کیلئے تعلیم اور معاشی شعبہ پر توجہ دینا ہو گی، دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی معیشت بہتر کرنا ہو گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے مائوں کو دو سال تک اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانا چاہئے۔







