اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، آگاہی کی کمی اور ویکسین سے ہچکچاہٹ صحت کے نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام نظام صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نسٹ یونیورسٹی میں ایک تقریب …
عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، آگاہی کی کمی اور ویکسین سے ہچکچاہٹ صحت کے نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام نظام صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نسٹ یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر مملکت برائے صحت نے کہا کہ نسٹ پاکستان کا ایک بہترین ادارہ ہے، تعلیم کے شعبہ میں اس ادارے کا کام قابل ستائش ہے، صحت کے شعبہ میں سب سے اہم مسئلہ عوام میں آگاہی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سروائیکل کینسر سے بچائو کیلئے ایچ پی وی ویکسین کی مقبولیت اسلام آباد میں 18 فیصد، سندھ میں 60 فیصد جبکہ پنجاب میں 58 فیصد ہے، اس حوالہ سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی آلودہ پانی کی وجہ سے ملک میں پھیل رہا ہے، تعلیم کے ذریعے لوگوں میں اس حوالہ سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، ان بیماریوں کو ملک سے ختم کرنے کیلئے اساتذہ اور طلباء کو اس حوالہ سے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کو بہتر بنائے بغیر ہم یونیورسل ہیلتھ کوریج کے اہداف تک نہیں پہنچ سکتے
حکومت ہیپاٹائٹس کے خاتمہ کیلئے جامع پروگرام پر عمل کر رہی ہے، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام نظام صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، آگاہی کی کمی اور ویکسین سے ہچکچاہٹ صحت کے نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔








