عید الفطر کی مناسبت سے ثقافتی لباس کے فیشن کے رجحانات میں اضافہ

اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):عید الفطر کی مناسبت سے خواتین کے فیشن کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی نظر آ رہی ہے، روایتی اور ثقافتی لباس مغربی طرز کے ملبوسات پر فوقیت حاصل کر رہے ہیں۔خریداروں اور مارکیٹ مبصرین نے شلوار قمیض، فرشی شلوار کُرتا، لہنگا، غراروں، ہاتھ کی کڑھائی والی کُرتیوں کے ساتھ ملتے جلتے کڑھائی والے کھسہ اور دیگر ورثے سے متاثر لباس کے لیے بڑھتی ہوئی ترجیح کو …

اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):عید الفطر کی مناسبت سے خواتین کے فیشن کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی نظر آ رہی ہے، روایتی اور ثقافتی لباس مغربی طرز کے ملبوسات پر فوقیت حاصل کر رہے ہیں۔خریداروں اور مارکیٹ مبصرین نے شلوار قمیض، فرشی شلوار کُرتا، لہنگا، غراروں، ہاتھ کی کڑھائی والی کُرتیوں کے ساتھ ملتے جلتے کڑھائی والے کھسہ اور دیگر ورثے سے متاثر لباس کے لیے بڑھتی ہوئی ترجیح کو اجاگر کیا ہے۔

بہت سی خواتین خاص طور پر نوجوان خریدار عید کے تہوار کے موقع کو زیادہ روایتی انداز میں منانے کے لیے ثقافت سے جڑے ہوئے ملبوسات اور دیگر اشیا کا انتخاب کر رہی ہیں۔طلباء اور فیشن کے شائقین نے کہا ہے کہ یہ رجحان ثقافتی شناخت کے ساتھ مضبوط تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقا بلہ میں رواں سال کلاسک ڈیزائنوں میں دلچسپی بڑھی ہے جو روایت کو جدید جمالیات کے ساتھ جوڑتے ہیں،خوبصورت رنگوں میں کڑھائی والے اور دستکاری والے ملبوسات کی مانگ میں اضافے کے ساتھ مارکیٹ کی سرگرمیاں بھی اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

سید کے ملبوسات میں لان، سوتی، شفون اور ریشم شامل کے کپڑے شامل ہیں جن کے خوبصورت ڈیزائن نمایاں ہیں۔ دوسری جانب خواتین زیورات پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کررہی ہیں۔فیشن کے ماہرین کا خیال ہے کہ ثقافتی لباس کی جانب بڑھتا ہوا جھکاؤ ورثے کے لیے ایک نئی علامت ہے کیونکہ خواتین روایتی عناصر کو عصری سٹائل کے ساتھ تیزی سے ملا رہی ہیں۔

دریں اثنا اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (IWCCI) کی بانی اور صدر ثمینہ فضل نے کہا کہ خواتین کی قیادت میں عید بازار چاند رات تک جاری رہیں گے۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ خرید و فروخت دونوں سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے ساتھ ان بازاروں کا ردعمل غیر معمولی رہا ہے۔عید کی خریداری کے ساتھ ساتھ، روایتی لباس واضح طور پر سب سے زیادہ منتخب کئے گئے ہیں جو عید الفطر کے تہوار کی تقریبات میں ثقافتی فیشن کے مضبوط احیاء کا نشان ہیں۔