فیصل آباد۔ 23 اگست (اے پی پی):غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے زرعی چیلنجز سے نبردآزما ہو کر زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا تاکہ زرعی خوشحالی کا نیا باب مرتب کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے پی ایم ایس پروبیشنرز آف ٹریننگ مینجمنٹ اینڈ ریسرچ ونگ سروسز جنرل …
غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 23 اگست (اے پی پی):غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے زرعی چیلنجز سے نبردآزما ہو کر زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا تاکہ زرعی خوشحالی کا نیا باب مرتب کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے پی ایم ایس پروبیشنرز آف ٹریننگ مینجمنٹ اینڈ ریسرچ ونگ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے ساتویں سول سروسز ٹریننگ پروگرام کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ملک میں تیلدار اجناس کی فصلات کو فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں زیتون کی وادی قائم کی گئی ہے جبکہ زیتون کو کوکنگ آئل کے طور پر پوری دنیا میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ اسے سلاد پر ڈال کر کھایا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک ادویاتی پودا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے سویابین کی نئی اقسام متعارف کرائی ہیں جنہیں کاشتکاروں میں فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ اس کی درآمد سے نجات حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے 700 کسانوں کی زمین پر سویابین کی کاشت کی ہے اور اگلے سال اسے 50 ہزار کسانوں کی زمینوں تک پہنچایا جائے گا۔ وفد نے مختلف لیبارٹیریز کا بھی دورہ کیا۔








