اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):ماہرین نے پاکستان میں غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خوراک میں ضروری غذائی اجزا شامل کرنے کے لازمی نظام کو مؤثر بنانے کے لئے مربوط حکمتِ عملی، مضبوط قانون سازی اور سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین نے یہ باتیں پاکستان میں خوراک کو غذائی اجزا سے بھرپور بنانے کا لازمی نظام‘‘ کے موضوع پر پالیسی …
غذائی قلت کے خاتمے کیلئے حکومت، صنعت، جامعات اور ترقیاتی اداروں میں تعاون کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عابد قیوم سلہری و دیگر

مزید خبریں
اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):ماہرین نے پاکستان میں غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خوراک میں ضروری غذائی اجزا شامل کرنے کے لازمی نظام کو مؤثر بنانے کے لئے مربوط حکمتِ عملی، مضبوط قانون سازی اور سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین نے یہ باتیں پاکستان میں خوراک کو غذائی اجزا سے بھرپور بنانے کا لازمی نظام‘‘ کے موضوع پر پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں کہیں۔
ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 25 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے،انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے آگاہی، قانون سازی،پالیسی سازی اور باہمی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ غذائیت سے متعلق مسائل کو مستقل اور مؤثر حکومتی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ لازمی اقدامات کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کرنے کے لئےتحقیقی شواہد، ادارہ جاتی تجربات اورسیاسی حقائق سے بھرپوراستفادہ کیا جانا چاہئے۔انہوں نے مقامی قیادت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی رہنماؤں کو اپنی برادریوں میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے، اس لئے ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے سرکاری افسران، سیاست دانوں اور اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ زیادہ مؤثر رابطے پر زور دیا تاکہ فیصلہ سازوں کو غذائی اجزا کی کمی کی سنگینی اور اس کے نتائج کا درست ادراک ہو سکے۔
غذائیت کی بہتری کے عالمی اتحاد کی پاکستان میں سربراہ فرح ناز نے کہا کہ غذائی اجزا کی کمی کی نشاندہی اور اس کی دستاویز بندی ضروری ہے تاکہ ان مسائل کو پالیسی سازوں کےسامنے زیادہ نمایاں کیا جا سکے۔ انہوں نے خوردنی تیل اور گندم میں غذائی اجزا شامل کرنے کو پالیسی کی خصوصی توجہ کا مستحق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کو مضبوط بنانے کے لئے قانون سازی، عمل درآمد، نگرانی، معیار کی جانچ، صنعت کی پابندی اور سیاسی عزم کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا ہوگا۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معالج ڈاکٹر امیر سلیم نے کہا کہ غذا میں تنوع کی کمی کے باعث جسم کو درکار کئی اہم غذائی اجزا کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے غذائیت کے مسئلے کو معاشی حالات، غذائی تحفظ،علاقائی تفاوت اور عوامی آگاہی کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی لاناضروری ہے۔غذائیت کے عالمی ادارے کی جانب سے ضمیر حیدر نے پاکستان میں نمک اور خوردنی تیل کو غذائی اجزا سے بھرپور بنانے کے کامیاب تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مثالوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ قانون منظور کر دینا مؤثر عمل درآمد کی ضمانت نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی نگرانی اور ضابطہ کار کی صلاحیت کو بہتر بنانا، غذائی اجزا سے بھرپور مصنوعات کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنا اور ان افراد کو بھی اس نظام میں شامل کرنا ضروری ہے۔
عالمی خوراک پروگرام سے وابستہ خوراک کے تحفظ اورمعیار کے ماہر محمد شہبازنے ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جہاں حکومت، ترقیاتی شراکت دار، جامعات، صنعت اور دیگر متعلقہ ادارے اپنی رپورٹس پیش کر سکیں۔انہوں نے بڑی ملوں کےعلاوہ چھوٹی مقامی آٹاچکیوں کو بھی اس نظام میں شامل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ایس ڈی پی آئی کی صائفہ وارث نےاپنی تفصیلی پریزنٹیشن میں پاکستان میں خوراک کو غذائی اجزا سے بھرپور بنانے کے لازمی نظام کا جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ غذائیت کا مسئلہ صرف خوراک کی دستیابی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق خوراک کی قیمت، استطاعت اور صحت بخش غذاؤں تک رسائی سے بھی ہے۔ انہوں نے بچوں اور نوعمر لڑکیوں میں قد کی کم نشوونما، جسمانی کمزوری، کم وزن اور غذائی اجزا کی کمی جیسے مسائل کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ خوراک میں غذائی اجزا شامل کرنے کا نظام اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب پورا نظام درست طور پر کام کرے۔







