ماسکو ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمہ کیلئے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسلینس قائم کرنے سے متعلق پاکستان کی تجویز پر ایس سی او کے تمام رکن ممالک نیجوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔بی آر آئی اور سی پیک کے حوالے سے تمام رکن ممالک متفق تھے ما سوائے بھارت کے۔سات وزراء خارجہ کا …
غربت کے خاتمہ کیلئے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسلینس قائم کرنے سے متعلق پاکستان کی تجویز پر ایس سی او کے تمام رکن ممالک نے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ماسکو میں ایس سی او کی وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد ویڈیو پیغام

مزید خبریں
ماسکو ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمہ کیلئے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسلینس قائم کرنے سے متعلق پاکستان کی تجویز پر ایس سی او کے تمام رکن ممالک نیجوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔بی آر آئی اور سی پیک کے حوالے سے تمام رکن ممالک متفق تھے ما سوائے بھارت کے۔سات وزراء خارجہ کا جھکائو ایک طرف اور بھارت کا اپنا نقطہ نظر تھا، تاہم سات رکن ممالک کے وزراء خارجہ نے اس کا نوٹس لیا۔جمعرات کو ماسکو میں ایس سی او کی وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان نے غربت کے خاتمہ کیلئے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسلنس قائم کرنیکی تجویز پیش کی تھی، اس پر تمام آٹھ رکن ممالک کے وزراء خارجہ ملکوں نے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پراتفاق کیا ہے جو اچھی پیشرفت ہے۔تمام رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کوڈ19 کا چیلنج ابھی موجود ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے رکن ملکوں کے مابین تعاون جاری رکھنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ سب نے چین کا شکریہ ادا کیا جس نے ٹیکٹیکل اورمالی تعاون فراہم کیا اور نئی ویکسین کی تیاری میں پیشرفت حاصل کرنے پر روس کو مبارکباد بھی پیش کی۔یہ ویکسن نہ صرف تیار بلکہ رجسٹرڈ بھی ہو چکی ہے۔اس سے وبا پر قابو پانے میں آسانی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کا خیال یہ تھا کہ اس ویکسین کو عوامی مفاد کیلئے استعمال کیا جائے اور اس کے کمرشل استعمال سے اجتناب کیا جائے۔اقوام متحدہ کے کردار پر تبادلہ خیال ہوا اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوا متحدہ کا کردار مرکزی ہونا چاہیئے۔اگر دنیا اور خطے میں امن و استحکام کی ضروریات ہیں، تو پھر یو این کے قراردادوں کی اہمیت اور ان کا احترام بھی ہم پر لازم و ملزوم ہے۔بی آر آئی پر رکن ممالک کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس سے خطے میں روابط کو فروغ ملے گا اور سب اس سے مستفید ہوں گے۔بی آر آئی اور سی پیک کے منصوبوں پر تمام رکن ممالک متفق تھے ما سوائے بھارت کے۔سات وزراء خارجہ کا جھکائو ایک طرف اور بھارت کا الگ۔ بہرحال سب نے اس کا نوٹس لیا۔دنیا نے اور سب وزراء خارجہ نے دیکھا کہ جو مشترکہ اعلامیہ پر سات وزراء خارجہ ایک طرف تھے اور بھارت کو چین کی ایک پیرا پر اعتراض تھا، اس پر ماہرین کی سطح پر اتفاق نہیں ہو سکا ،تاہم بعد ازاں اسے وزراء خارجہ کے فورم پر لایا گیا خاصی بحث کے بعد ،چین کا نقطہ نظر،جس کی پاکستان حمایت کرتا ہے،اسے تسلیم کیا گیا اور بشکیک میں جو زبان استعمال کی گئی تھی،اس پر اتفاق ہو گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت بالاخر مان گیا۔








