ریاض ۔16ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کے شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کے سرکاری ترجمان ڈاکٹر سامر الجطيلی نے کہا ہے کہ غزہ میں سولہ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوگئے ہیں۔ العربیہ کے مطابق شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کے ترجمان نے کہا کہ ہدف والے گروہوں میں 16 لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزین اور بے گھر افراد ہیں، …
غزہ میں سولہ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوگئے ہیں، سعودی شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر

مزید خبریں
ریاض ۔16ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کے شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کے سرکاری ترجمان ڈاکٹر سامر الجطيلی نے کہا ہے کہ غزہ میں سولہ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوگئے ہیں۔
العربیہ کے مطابق شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کے ترجمان نے کہا کہ ہدف والے گروہوں میں 16 لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزین اور بے گھر افراد ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں امداد کی ترسیل میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز میں کراسنگ کو بند کرنا اور جنگ کو نہ روکنا شامل ہے۔ انسانی ہمدردی کے اداروں کو امداد غزہ میں داخل کرنے کے قابل بنانا ہوگا ۔ کراسنگ پر امداد کا جمع ہونا اور اس کے داخلے میں تاخیر ہونے سے مصائب بڑھ رہی ہیں۔ موسمی حالات، کراسنگ کی مسلسل بندش، اقوام متحدہ کے دفاتر میں صلاحیتوں کی کم سطح کی وجہ سے امداد کی حفاظت میں مشکلات ہیں۔
او سی ایچ اے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ، ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ سامر الجطيلی نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ جب تک تنازع جاری رہے گا اور امداد پر پابندیاں جاری رہیں گی تو غزہ میں قحط کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔








