جنیوا ۔8اگست (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ روس اڈہانوم گيبريسوس نے کہا ہے کہ غزہ میں بچوں کے درمیان شدید غذائی قلت کی ماہانہ شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ بھوک سے منسلک اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے جنیوا میں ادارے کے صدر دفتر سے دیئے گئے بیان میں کہا کہ جولائی کے مہینے میں، …
غزہ میں شدید غذائی قلت کیسز کی ماہانہ شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
جنیوا ۔8اگست (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ روس اڈہانوم گيبريسوس نے کہا ہے کہ غزہ میں بچوں کے درمیان شدید غذائی قلت کی ماہانہ شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ بھوک سے منسلک اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے جنیوا میں ادارے کے صدر دفتر سے دیئے گئے بیان میں کہا کہ جولائی کے مہینے میں، پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 12 ہزار بچوں میں شدید غذائی قلت کی تشخیص ہوئی یہ اب تک کی سب سے بڑی ماہانہ تعداد ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ سال کے آغاز سے لے کر 29 جولائی تک کم از کم 99 افراد غذائی قلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 64 بالغ اور 35 بچے شامل ہیں، جبکہ ان میں سے 29 بچے پانچ سال سے کم عمر کے تھے۔عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت غزہ میں تقریباً 25 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
ادارے کے فلسطینی علاقوں میں نمائندے ریک بیبرکورن نے کہا کہ حالات مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے غذائی امداد کا مجموعی حجم اب بھی قطعا نا کافی ہے۔ امدادی ترسیلات میں اضافہ ضروری ہے، اور خوراک میں تنوع بھی ہونا چاہیے۔








