غزہ۔21جنوری (اے پی پی):غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں غزہ کی پٹی کا ایک وسیع تر حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی تعمیر نو کے لئے کئی سال اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی رواں ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں 5 کروڑ ٹن ملبہ موجود ہے، جس کی صرف صفائی کے …
غزہ کی تعمیر نو کے لئے کئی سال، اربوں ڈالر درکار ہوں گے، اقوام متحدہ
غزہ۔21جنوری (اے پی پی):غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں غزہ کی پٹی کا ایک وسیع تر حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی تعمیر نو کے لئے کئی سال اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی رواں ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں 5 کروڑ ٹن ملبہ موجود ہے، جس کی صرف صفائی کے لئے 21 سال لگ سکتے ہیں جبکہ اس کے لئے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق اس سے قبل اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں ٹوٹے ہوئے مکانات کی تعمیر نو 2040 تک ممکن ہو سکے گی بلکہ اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔واضح رہے کہ غزہ میں 15 ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعدامریکی، قطری اور مصری ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت 6ہفتوں کے لئے جنگ بندی کی گئی ہے اور امدادی اداروں اور عالمی برداری کی توجہ اب غزہ کی تعمیر نو پر مرکوز ہے۔
فلسطینی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان محمود باسل کے مطابق ہم دس ہزار سے زائد افراد کی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں جو ممکنہ طور پر ملبے تلے دفن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم 2840نعشیں مکمل طور پر پگھل چکی ہیں، جن کے کوئی نشانات نہیں مل رہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 47 ہزار سےزیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ۔









