اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد صحرائی زوال (یو این سی سی ڈی) کی ڈپٹی ایگزیکٹو سیکرٹری اینڈریا میزا موریلو نے چین کی زمینوں کی بحالی، صحرائی علاقوں میں شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کو سراہا ہے۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار کی چین کی صحرائی زمینوں کی بحالی اور شجرکاری کی کوششوں کی تعریف

مزید خبریں
اولان باتور۔27اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد صحرائی زوال (یو این سی سی ڈی) کی ڈپٹی ایگزیکٹو سیکرٹری اینڈریا میزا موریلو نے چین کی زمینوں کی بحالی، صحرائی علاقوں میں شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کو سراہا ہے۔
شنہوا کے مطابق یو این سی سی ڈی کے فریقین کی 17ویں کانفرنس کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے زمینوں کی تنزلی روکنے، صحرائی پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے اور مٹی کی صحت بہتر بنانے کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کی کامیابی کے اہم عوامل میں مضبوط قیادت، طویل المدتی منصوبہ بندی اور مستقبل کے لیے واضح وژن شامل ہیں۔ چین کی زمینوں کی بحالی سے یہ سبق ملتا ہے کہ مقامی روایتی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر ایسی زمینوں کو بھی بحال کیا جاسکتا ہے جنہیں کبھی ناقابلِ بحالی سمجھا جاتا تھا۔میزا موریلو نے چین کے ’’تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام‘‘ کو اس طویل المدتی حکمت عملی کی نمایاں مثال قرار دیا۔ انہوں نے چینی شجرکاری کارکن یِن یُوژِن کی چار دہائیوں پر محیط خدمات کو بھی قابلِ تقلید قرار دیا، جنہوں نے شمالی چین کے ماؤوسو ریتلے علاقے میں بڑے پیمانے پر درخت لگائے۔انہوں نے کہا کہ تمام ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک خوشحالی، روزگار اور سماجی بہبود کے خواہاں ہیں، تاہم ترقی کو ماحولیاتی حدود کے اندر رہنا چاہیے کیونکہ صحت مند زمین، مٹی اور پانی انسانی بقا کے بنیادی ستون ہیں۔انہوں نے عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی جنوب سے ماحولیاتی مسائل کے لیے متعدد عملی حل سامنے آئیں گے۔








