غزہ کے الصبرہ محلے میں اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ ہونے والے گھر سے 99 شہدا کی باقیات برآمد

غزہ کے الصبرہ محلے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجہ میں تباہ ہونے والے گھر سے 99 شہدا کی باقیات نکال لی گئی ہیں۔

غزہ ۔28جولائی (اے پی پی):غزہ کے الصبرہ محلے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجہ میں تباہ ہونے والے گھر سے 99 شہدا کی باقیات نکال لی گئی ہیں۔

اسرائیل کے جنگی طیاروں نے اس گھر پر اکتوبر 2023 اور جون 2025 میں فضائی حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید ہو گئے تھے اور ان کی ایک بڑی تعداد ملبے کے نیچے ہی دبی رہ گئی تھی۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں شہری دفاع کے عملے نے انتہائی کٹھن حالات میں جاری رہنے والی امدادی سرگرمیوں کے بعد غزہ کے الصبر ہ محلے میں ابو شریعہ اور الحساينہ خاندانوں کے ایک تباہ شدہ گھر کے ملبے کے نیچے سے 99 شہدا کی باقیات نکال لی ہیں۔ عملے نے بتایا حملوں کی وجہ سے ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے ساتھ ساتھ ملبے تلے دب جانے والے افراد تک پہنچنے کے لیے درکار سازوسامان، مشینری اور وسائل کی شدید کمی کے باعث شہدا کی تلاش اور ان کی باقیات نکالنے کے آپریشنز کو اب بھی بہت بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے اب بھی ہزاروں شہدا لاپتا ہیں کیونکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی اور مشکل حالات کی وجہ سے بہت سے ہدف بنائے گئے مقامات تک پہنچنا ناممکن ہو چکا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں میں تقریباً 8000 شہدا کی باقیات اب بھی ملبے کے نیچے موجود ہیں جبکہ شہری دفاع کا عملہ محدود وسائل اور بھاری مشینری نیز مخصوص گاڑیوں کی ضرورت کے باوجود متاثرین کو باہر نکالنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔