وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور زرعی شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت متحرک، زرعی شعبے کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور زرعی شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
منگل کو وفاقی وزراء کے ساتھ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دورہ کے موقع پر نیوز بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات سے بروقت نمٹنے کے لیے ضلعی سطح پر ایک مؤثر ایمرجنسی رسپانس سسٹم قائم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے تحت متعلقہ اداروں کو فوری فیصلوں اور کارروائی کے اختیارات دیے جائیں تاکہ فصلوں اور کسانوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ملک کا زرعی شعبہ اس کے شدید اثرات کی زد میں ہے، جس سے غذائی تحفظ بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت نے ایسے جدید بیج تیار کرنے کے لیے تحقیق کا دائرہ وسیع کیا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ فصلوں کی کاشت کے اوقات اور طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ شدید گرمی اور دیگر موسمی اثرات سے پیداوار کو محفوظ رکھا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کپاس اور دھان سمیت مختلف فصلوں کی بروقت کاشت کے حوالے سے نئی حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جبکہ زرعی تحقیق کے میدان میں بھی اہم پیش رفت جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، جس سے زرعی شعبے کی استعداد اور لچک میں مزید اضافہ ہوگا۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اس معاملے پر مکمل طور پر متحرک اور سنجیدہ ہے، اور امید ہے کہ آئندہ برس موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت مزید بہتر ہوگی ۔








