غیرت کے نام پر قتل ناسور ہے، ویمنز کاکس کی قرارداد پر سختی سے عمل کرائیں گے، اختیار ولی خان

اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبر پختونخوا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نام نہاد ’’غیرت‘‘ کے نام پر انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے پرعزم ہے، ویمنز پارلیمنٹری کاکس کی 6 اگست کی قرارداد اس ضمن میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ …

اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبر پختونخوا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نام نہاد ’’غیرت‘‘ کے نام پر انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے پرعزم ہے، ویمنز پارلیمنٹری کاکس کی 6 اگست کی قرارداد اس ضمن میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر وزیراعظم شہباز شریف کو شدید تشویش ہے اور اس حوالے سے زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

اختیار ولی خان نے بتایا کہ قرارداد کے مطابق ایک قومی ڈیٹا بیس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس سے خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقوں میں ہونے والے ایسے جرائم کی مانیٹرنگ آسان ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’غیرت‘‘ کے نام پر قتل کو اب کسی صورت گھریلو معاملہ قرار دے کر دبایا نہیں جا سکے گا، بلکہ ریاست خود ایسے مقدمات میں فریق بنے گی۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبے میں خطرے کا شکار خواتین کے لیے محفوظ شیلٹرزاور ہیلپ لائنزکا نیٹ ورک بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی پالیسی ہے کہ مظلوم کو قانونی امداد کے ساتھ ساتھ مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسی بین الصوبائی ٹاسک فورس تشکیل دے رہے ہیں جو مجرموں کو ایک صوبے سے دوسرے صوبے فرار ہونے سے روکے گی۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے علماء کرام اور مقامی مشران کو ساتھ ملایا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا یا قتل کرنا ہماری پشتون روایات کا حصہ نہیں بلکہ یہ ایک جرم ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایسے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی اور کسی بھی دبائو یا سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔