غیرمستقل نشستوں میں توسیع مساوی علاقائی نمائندگی کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے، پاکستان

اقوام متحدہ ۔9فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیرمستقل نشستوں میں توسیع مساوی علاقائی نمائندگی کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےمستقل ارکان میں اضافہ کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس میں مزید غیر مستقل نشستیں شامل کرکے 15 رکنی باڈی میں …

اقوام متحدہ ۔9فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیرمستقل نشستوں میں توسیع مساوی علاقائی نمائندگی کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےمستقل ارکان میں اضافہ کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس میں مزید غیر مستقل نشستیں شامل کرکے 15 رکنی باڈی میں علاقائی گروپوں کی مساوی نمائندگی کے مطالبے کا اعادہ کرتاہے۔

سفیر منیر اکرم نے کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کو علاقائی نمائندگی میں موجودہ عدم توازن کو دور کرنا چاہیے ۔

کم نمائندگی والے علاقوں کی نمائندگی میں اضافہ کرنا چاہیے اورزیادہ نمائندگی والے علاقوں کی نمائندگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں اتفاق رائے پیدا کرنے والے اتحاد (یو ایف سی ) نے غیر مستقل اراکین میں علاقائی بنیادوں پر11 سےلے کر12 نشستوں کی تقسیم کی تجویز دی ہےجس سے ہر علاقے کی مساوی نمائندگی یقینی ہوجائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ بین الحکومتی طویل مذاکرات کا مقصد 15 رکنی سلامتی کونسل میں اصلاحات لانا ہے۔ اتفاق رائے پیدا کرنے والے اتحادنےغیر مستقل اراکین میں اضافہ کرنے کی جو تجویز دی ہے اس کے تحت ان کو جنرل اسمبلی وقتاً فوقتاً منتخب کرے گی جو زیادہ جمہوری عمل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنیادی طور پر گروپ آف فور( ہندوستان، برازیل، جرمنی اور جاپان )سے مختلف ہےجس کے ممبران حق کے معاملے کے طور پر مستقل نشستوں کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ حق خود استحقاق کے احساس سے پیدا ہوا ہے۔

منیر اکرم کہا کہ جی فور کا دعوی نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے رکن ممالک کی مساوی خود مختاری کے اصول کی نہ صرف خلاف ورزی ہےبلکہ یہ غیر جمہوری بھی ہے۔

منگل کو ہونے والی بحث کے دوران نئی حقیقتوں کے حوالے سے اور بعض لوگوں کی طرف سے سلامتی کونسل میں ہونے کے دعووں کے بارے میں سفیر اکرم نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانی ریاستیں مستقل رکنیت حاصل کرنے کے خواہشمند وں سے کہیں زیادہ قابل قدر رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’کوئی بھی ریاست جو 50 سال سے زیادہ عرصے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتی ہے وہ کونسل کی رکنیت کے حق کا دعویٰ کرنے کی بھی اہل نہیں ہے۔

سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے فروری 2009 میں جنرل اسمبلی میں پانچ اہم شعبوں ، رکنیت کے زمرے، ویٹو کا سوال، علاقائی نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حجم، اور کونسل کے کام کرنے کے طریقوںاورجنرل اسمبلی کے ساتھ اس کےتعلق پر مکمل مذاکرات کا آغاز ہوا۔

اقوام متحدہ کے اصلاحاتی عمل کے ایک حصے کے طور پر کونسل کو وسعت دینے پر ایک عمومی معاہدے کے باوجود، رکن ممالک میں تفصیلات پر اختلافات ہیں۔ سلامتی کونسل اس وقت پانچ مستقل ارکان پر مشتمل ہے جن میں برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ شامل ہیں اور 10 غیر مستقل اراکین دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔

اپنے ریمارکس میں سفیر اکرم نے کہا کہ اگرچہ مستقل ارکان کی موجودگی اور ویٹو سلامتی کونسل کے مفلوج ہونے کی بنیادی وجہ ہےلیکن مستقل کیٹیگری میں ارکان کے اضافے سے اقوام متحدہ کے باقی ارکان کے لیے دستیاب نشستوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

انہوں نے کہااگر رکنیت میں 6 نئے مستقل اراکین کو شامل کیا جاتا ہے، جیسا کہ تجویز کیا گیا ہے، تو اس سے تمام 5 خطوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باقی 182 اراکین کے لیے صرف 4/5 اضافی نشستیں رہ جائیں گی اور یہ یقینی طور پر اس آئٹم کے عنوان میں تجویز کردہ ‘مناسب جغرافیائی نمائندگی’ کے مترادف نہیں ہوگا جس کے تحت ہم سلامتی کونسل میں اصلاحات کی تلاش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوایف سی سلامتی کونسل میں کوئی مستقل نشست نہ رکھنے والےبراعظم افریقہ سے رواتاریخی ناانصافی کو دور کرنے کے لیے افریقہ کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتاہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ یوایف سی کا نقطہ نظر نہ صرف جنرل اسمبلی کی طرف سے اصلاحات کی تجویز کی منظوری کو یقینی بنائے گابلکہ یہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے درکار چارٹر ترمیم کو اپنانے کو بھی یقینی بنائے گا۔