پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ اور علی بابا گروپ نے ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈاک کے نظام کو جدید بنانے کی کوششوں کے تحت پاکستان پوسٹ کے چھانٹی مراکز کو خودکار بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
علی بابا گروپ پاکستان پوسٹ کے چھانٹی مراکز کو خودکار بنائے گا

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ اور علی بابا گروپ نے ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈاک کے نظام کو جدید بنانے کی کوششوں کے تحت پاکستان پوسٹ کے چھانٹی مراکز کو خودکار بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق یہ اقدام علی بابا کے ساتھ تعاون سے متعلق وزیراعظم کی ہدایات کے تحت کیا جا رہا ہے، جس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن مرکزی وزارت کے طور پر کام کر رہی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ اور علی بابا گروپ نے پاکستان پوسٹ کے چھانٹی مراکز کو خودکار بنانے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اقدام پاکستان پوسٹ کے نظام کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کو وسعت دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
پاکستان پوسٹ وزیراعظم کے کیش لیس معیشت کے اقدام پر بھی عمل درآمد کر رہا ہے، جس میں وزارت خزانہ مرکزی وزارت کے طور پر کام کر رہی ہے۔اس اقدام کے تحت پاکستان پوسٹ نے نان ٹیکس محصولات کی وصولی کے لیے مارچ 2026 میں نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔پاکستان پوسٹ نے اپنے نظام کو قومی کیش لیس معیشت کے اقدام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے راست سے منسلک اکاؤنٹ کھولنے میں سہولت فراہم کرنے کی درخواست بھی فنانس ڈویژن سے کی ہے۔دستاویز کے مطابق پہلے مرحلے میں 85 جنرل پوسٹ آفسز کو شامل کیا جائے گا اور پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کی 65 فیصد آمدنی کی وصولیوں کو اس نظام کے دائرے میں لانے کا ہدف ہے۔
ایک اور اقدام قومی جواہرات پالیسی 30 ۔ 2026 کے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق ہے، جس میں وزارت صنعت و پیداوار مرکزی وزارت کے طور پر کام کر رہی ہے۔یونیورسل پوسٹل یونین، پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ، پاکستان سنگل ونڈو اور پاکستان کسٹمز کی تکنیکی ٹیمیں کسٹمز ڈیکلریشن سسٹم کو وی بوک؍اے سی ایس کے ساتھ مربوط کرنے پر کام کر رہی ہیں۔یہ اقدامات مجموعی طور پر پاکستان پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقہ کار کو وسعت دینے اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔







