اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ فائونڈر گروپ 2026-28 کی مدت کے لیے آئی سی سی آئی کے انتخابات میں محض وعدوں اور نعروں کے بجائے اپنی کارکردگی، عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج کی بنیاد پر کاروباری برادری سے مینڈیٹ لینے جا رہا ہے، فائونڈر گروپ نے ہمیشہ کاروباری برادری کے مسائل …
فائونڈر گروپ 2026-28 کی مدت کیلئے آئی سی سی آئی کے انتخابات میں محض وعدوں اور نعروں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر کاروباری برادری سے مینڈیٹ لینے جا رہا ہے، سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ فائونڈر گروپ 2026-28 کی مدت کے لیے آئی سی سی آئی کے انتخابات میں محض وعدوں اور نعروں کے بجائے اپنی کارکردگی، عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج کی بنیاد پر کاروباری برادری سے مینڈیٹ لینے جا رہا ہے، فائونڈر گروپ نے ہمیشہ کاروباری برادری کے مسائل کے حل، چیمبر کے کردار کو موثر بنانے اور نجی شعبے کے لیے سازگار کاروباری ماحول کے فروغ کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی ایگزیکٹو کمیٹی کی 2026-28 کی مدت کے لیے انتخابات 16 ستمبر 2026ء کو ہوں گے اور انہیں یقین ہے کہ کاروباری برادری ایسی قیادت کو ترجیح دے گی جس نے مسلسل عملی کام، موثر نمائندگی اور قابل ستائش نتائج کے ذریعے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ فائونڈر گروپ کا واضح موقف ہے کہ کسی بھی چیمبر کی اصل طاقت نعروں میں نہیں بلکہ کارکردگی، تسلسل، ساکھ اور عملی اقدامات میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں آئی سی سی آئی نے کاروباری برادری کے لیے آسان کاروبار، ریگولیٹری رکاوٹوں کے خاتمے اور سرکاری اداروں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسز، توانائی کی بلند لاگت، سی ڈی اے سے متعلق امور، پراپرٹی و کمرشل معاملات، انفراسٹرکچر، پارکنگ، کاروباری سہولت کاری اور دیگر اہم مسائل کو متعلقہ حکام کے سامنے مسلسل اٹھایا گیا ہے جبکہ کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ براہ راست رابطہ کاری کو بھی مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔آئی سی سی آئی صدر نے کہا کہ چیمبر نے خود کو محض ایک نمائندہ ادارے تک محدود رکھنے کے بجائے ایک موثر بزنس فسیلیٹیشن اور مسئلہ حل کرنے والے پلیٹ فارم کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔ مختلف سرکاری اداروں، ریگولیٹری باڈیز، سفارتی مشنز اور بین الاقوامی کاروباری تنظیموں کے ساتھ روابط کو وسعت دے کر کاروباری برادری کے لیے مسائل کے حل، معلومات تک رسائی اور نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے کے راستے کھولے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی سرگرمیوں اور کمرشل ڈپلومیسی کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے جس کے تحت بزنس ڈیلیگیشنز، بزنس اوپرچیونٹی کانفرنسز، بی ٹو بی میٹنگز، سرمایہ کاری کے فروغ کی سرگرمیوں اور عالمی مارکیٹوں کے ساتھ روابط پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستانی کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں سے جوڑنا، برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنا اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات کو فروغ دینا ہے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ کاروباری برادری کی خوشحالی اور پاکستان کی معاشی ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، جب کاروبار ترقی کرتے ہیں تو سرمایہ کاری بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے اور حکومتی محصولات بھی بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو سہولت دینا کسی قسم کی رعایت نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے کہا کہ فائونڈر گروپ آئندہ بھی پالیسیوں میں تسلسل، کاروباری لاگت میں کمی، مسابقتی توانائی نرخوں، ٹیکس نظام کو آسان بنانے، موثر ریگولیٹری نظام، بہتر انفراسٹرکچر اور کاروباری اداروں خصوصاً ایس ایم ایز کے لیے مالی سہولیات تک بہتر رسائی کے لیے بھرپور آواز اٹھاتا رہے گا۔








