فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی جیسے سیاستدانوں کے دل میں کشمیریوں کے لئے ہمدردی اس وقت جاگتی ہے جب وہ اقتدار سے محروم کر دیئے جاتے ہیں، آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی جیسے سیاستدانوں کے دل میں کشمیریوں کے لئے ہمدردی اس وقت جاگتی ہے جب وہ اقتدار سے محروم کر دیئے جاتے ہیں، ہم تنہایت نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے روابط پر یقین رکھتے ہیں لیکن بھارت کے ساتھ تعلقات کا انحصار اس کی کشمیر کے حوالے سے …

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی جیسے سیاستدانوں کے دل میں کشمیریوں کے لئے ہمدردی اس وقت جاگتی ہے جب وہ اقتدار سے محروم کر دیئے جاتے ہیں، ہم تنہایت نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے روابط پر یقین رکھتے ہیں لیکن بھارت کے ساتھ تعلقات کا انحصار اس کی کشمیر کے حوالے سے پالیسی پر ہے، بھارت کے نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار کشمیر کا مسئلہ دنیا میں اجاگر ہوا اور اس میں عالمی میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز سیاستدانوں نے سرینگر میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے بار بار کشمیریوں کو دھوکہ دیا اور اپنے معمولی سیاسی مفادات کے لئے ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا لیکن اب مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام مزید دھوکہ کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال پانچ اگست کے بعد بھارتی حکومت نے اگرچہ حریت رہنماؤں کے ساتھ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی گرفتار کیا لیکن اس گرفتاری کا مقصد انہیں سیاسی فائدہ پہنچانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ حریت اور تحریک مذاحمت سے وابستہ جن رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے اکثر ابھی بھی جیلوں میں بند ہیں جبکہ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سیاست کرنے کے لئے رہا کر دیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف غداری کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ ایک غلط اقدام تھا۔ میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ اگر پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے کامیابی حاصل کرنی ہے تو ہر سطح پر اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا سیاسی بنیادوں پر پولرائزیشن سے پاکستان میں عدم استحکام آئے گا اور سب سے زیادہ نقصان تحریک آزادی کشمیر کو پہنچنے کا احتمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ ایک سال میں طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ  ہے کہ گذشتہ سال پانچ اگست سے لے کر اب تک عالمی میڈیا کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ گذشتہ ستمبر اکتوبر میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی میڈیا نے اہم رپورٹس شائع کیں لیکن اس کے بعد دنیا میں کچھ اور واقعات ہوئے جس کی وجہ سے عالمی میڈیا کی توجہ کشمیر سے ہٹ گئی اور وہ کوریج نہیں ملی جو ملنی چاہیے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کو بے خبر رکھنے کے لیے نہ صرف میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے داخلے پر بھی کڑی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود کچھ اطلاعات باہر چلی جاتی ہیں جس سے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں پاکستان کے میڈیا کی ذمہ داریاں پہلے سے کئی زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ اگر پاکستان میں بیٹھے ہوئے بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے نمائندگان توجہ دیں تو وہ کشمیریوں کی بیپتا دنیا کو سنا سکتے ہیں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے عالمی برادری کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ 1947 سے لے کر اب تک بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی ہے اور ان کو بے دردی سے کچلا گیا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک ہر دور میں ہوا ہے صرف فرق اتنا ہے کانگریس یا دوسری جماعتوں کی منافقت کی پالیسی تھی وہ دنیا کو تاثر دے رہے تھے کہ بھارت سیکولر ملک ہے اور ہندستانی عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کی موجودہ حکومت نے سیکولر ازم کا وہ نقاب اتار پھینکا ہے اور مسلمانوں کا کھلم کھلا قتل عام شروع کر رکھا ہے اور ہندو توا یا ہندو بالا دستی کا نظریہ پیش کیا ہے جس کے تحت وہ غیر ہندو اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو اپنا دشمن قرار دے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں جب تک ہندوستان سے غیر ہندو لوگوں کو ختم نہیں کیا جائے گا ہندوستان ناپاک اور پلید رہے گا۔ یہ وہ خطر ناک نظریہ ہے جو نہ صرف بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لوگوں کے سروں پر لٹکتی ہوئی ایک ننگی تلوار ہے۔ بھارت نے ہندو توا کی شکل میں جو فسطائی نظریہ پیش کیا ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا اور اسے ناکام بنانا ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے جس کے لئے ہمیں تیاری کرنا ہو گی۔