پیرس۔8جولائی (اے پی پی):فرانس میں حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والے تین سیاسی اتحادوں کے کارکنوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے۔ رشیا ٹوڈے کے مطابق فسادات پر قابو پانے کے لئے ملک بھر میں 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے جن میں سے صرف دارالحکومت پیرس میں 5 ہزار اہلکار تعینات کئےگئے ہیں۔ تینوں سیاسی اتحادوں کی طرف سے واضح برتری حاصل نہ کرنے کی وجہ سے فرانس میں …
فرانس میں قبل از وقت انتخابات کے بعد فسادات پھوٹ پڑے، 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات
پیرس۔8جولائی (اے پی پی):فرانس میں حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والے تین سیاسی اتحادوں کے کارکنوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے۔ رشیا ٹوڈے کے مطابق فسادات پر قابو پانے کے لئے ملک بھر میں 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے جن میں سے صرف دارالحکومت پیرس میں 5 ہزار اہلکار تعینات کئےگئے ہیں۔ تینوں سیاسی اتحادوں کی طرف سے واضح برتری حاصل نہ کرنے کی وجہ سے فرانس میں ان سیاسی اتحادو ں کے کارکنوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پیرس ، نانتیز، لیون، مارسیلی اور رینز شہروں میں پر تشدد ہنگاموں کے دوران دکانوں کو لوٹا گیا، موٹر سائیکلوں کو آگ لگائی گئی اور پولیس پر آتش گیر مواد پھینکا گیا جس کے بعد پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ ماہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا جس کے پہلے مرحلے میں جب دائیں بازو کی نیشنل ریلی پارٹی ( آر این ) نے 33 فیصد ووٹ حاصل کر لئے لیکن انتخابات کے دوسرے مرحلے میں وہ اپنی پوزیشن کو برقرار نہ رکھ سکی اور 143 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر آگئی۔ بائیں بازو کا نیو پاپولر فرنٹ بلاک 182 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آگیا لیکن قطعی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کی قیادت میں اتحاد 168 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔









