اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) حکومت کی طرف سے ملک بھر میں فرقہ وارانہ اور بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے، حج انتظامات کو بہتر بنانے کے حقوق کو اسلامی تعلیمات اور آئین کے تحت اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے، اسلام کے امن کے پیغام کو عام کرنے اور معاشرے میں تحمل اور برداشت پیدا کرنے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور کی کارکردگی کو قابل …
فرقہ وارانہ اور بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے، حج انتظامات بہتر بنانے، اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے، اسلام کے امن کے پیغام کو عام کرنے اور معاشرے میں تحمل اور برداشت پیدا کرنے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور کی کارکردگی قابل ستائش قرار

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) حکومت کی طرف سے ملک بھر میں فرقہ وارانہ اور بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے، حج انتظامات کو بہتر بنانے کے حقوق کو اسلامی تعلیمات اور آئین کے تحت اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے، اسلام کے امن کے پیغام کو عام کرنے اور معاشرے میں تحمل اور برداشت پیدا کرنے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور کی کارکردگی کو قابل ستائش قرار دیا گیا ہے۔ منگل کو حکومت کی طرف سے جاری کردہ دو سالہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق وزارت مذہبی امور نے وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی زیر سرپرستی ملک میں نفرت انگیز تقاریر اور مواد کی اشاعت کے سدباب، اقلیتوں کو اسلامی تعلیمات اور آئین کے تحت مقام دینے کے حوالے سے بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے اور ملک میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کی مشاورت سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے اقدامات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے کورونا کی صورتحال کے پیش نظر مساجد میں رمضان المبارک کے دوران ایس او پیز کی تشکیل، محرم الحرام کے ایام میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کورونا وائرس ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے ملک بھر کے علماء کرام اور مشائخ عظام کی مشاورت سے مشترکہ اعلامیے جاری کرنے میں اور وزارت مذہبی امور نے مدارس میں یکساں نصاب تعلیم کی ترویج، ملک سے مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے سمیت دیگر امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے علماء و مشائخ کونسل قائم کی گئی جس کا مقصد معاشرے میں انتہا پسندی کے خاتمے اور برداشت پیدا کرنا ہے۔ اس کونسل کے تحت دو خصوصی کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں۔ ایک کمیٹی مدارس کے نصاب تعلیم سے نفرت انگیز مواد کے خاتمے اور ملک میں بھلائی چارے کے قیام کے حوالے سے تجاویز کی تیاری جبکہ دوسری کمیٹی ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے تجویز کردہ اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ وزارت مذہبی امور کی جانب سے 12 ربیع الاول کو وفاقی دارالحکومت میں سیرت کانفرسز کے انعقاد کے ساتھ ساتھ ملک کے چاروں صوبوں میں بین المذاہب ہم آہنگی میں گفت و شنید کے کردار کے حوالے سے کانفرنسوں کا انعقاد کرایا گیا۔ وزارت مذہبی امور نے اقلیتی سکالرز اور طلباء کے وظائف کیلئے فنڈز فارہم کئے۔ ننکانہ صاحب میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین کے دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ قرآن حکیم کی تعلیم عام کرنے اور طلباء کی حوصلہ افزائی کیلئے 2018-19ء اور 2019-20ء میں عالمی مقابلہ حسن و قرآت کے مقابلوں میں پاکستانی بچوں کی شرکت کو یقینی بنایا گیا۔ سیرت کانفرنسوں میں عالمی سکالرز کو مدعو کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزارت مذہبی امور نے حج کے موقع پر سعودی وزارت حج کے ساتھ مل کر پاکستانی عازمین حج کیلئے روڈ ٹو مکہ منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے سمیت متعدد اہم اقدامات اٹھائے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی وزارت مذہبی امور کی خصوصی سرپرستی کی اور مختلف مواقع پر ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے اور کورونا کی صورتحال میں ایس او پیز کی تشکیل کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنے میں وزارت مذہبی امور کی خصوصی سرپرستی بھی کی۔








