اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل نے فرنیچر سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ منفرد و بہتر ڈیزائننگ اور بین الاقوامی معیار کی فنشنگ پر توجہ دیں تاکہ چینی فرنیچر کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے لیے علاقائی اور عالمی منڈیوں میں جگہ بنائی جا سکے۔ اتوار کو بیرسٹر سعدیہ عالم بٹ کی قیادت میں خواتین تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر …
فرنیچر مینوفیکچررز منفرد و بہتر ڈیزائننگ اور فنشنگ پر توجہ دیں تاکہ چینی فرنیچر کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی منڈیوں میں جگہ بنائی جا سکے، سی ای او پی ایف سی میاں کاشف اشفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل نے فرنیچر سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ منفرد و بہتر ڈیزائننگ اور بین الاقوامی معیار کی فنشنگ پر توجہ دیں تاکہ چینی فرنیچر کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے لیے علاقائی اور عالمی منڈیوں میں جگہ بنائی جا سکے۔
اتوار کو بیرسٹر سعدیہ عالم بٹ کی قیادت میں خواتین تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایف سی میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان کے برآمد کنندگان متعدد مسائل کا شکار ہیں ، مقامی صنعت کاروں کو فرنیچر کی بھاری درآمد کی وجہ سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے، چینی فرنیچر نے بھی مقامی صنعت کو 70 فیصد تک نقصان پہنچایا ہے اور مقامی گھریلو فرنیچر کی فروخت میں 60 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے جس سے گھریلو صنعت پر دبا ئوبہت بڑھ گیا ہے کیونکہ تھائی لینڈ اور کوریا سمیت دیگر ممالک نے بھی پاکستان کو بڑے پیمانے پر فرنیچر کی برآمد شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر کے کاروبار کی زیادہ لاگت نے مجموعی طور پر اس شعبے کو خطرے سے دوچارکر دیا ہے ،
تمام خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں چپ بورڈ، لکڑی، فوم، پالش ،کیمیکل میٹریل، کلر، پینٹ اور ہارڈ ویئر شامل ہیں، دوسری طرف جنگلات کی بے تحاشا کٹائی کی وجہ سے لکڑی کی پیداوار میں بھی شدید کمی آئی ہے۔ میاں کاشف نے کہا کہ پاکستان کے لکڑی کے فرنیچر کے بڑے خریدار برطانیہ، امریکا، سری لنکا اور خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اومان اور کویت ہیں، امریکا زیادہ تر بیڈروم فرنیچر خریدتا ہے،
برطانیہ اور خلیجی ممالک کچن و دفتری فرنیچر درآمد کرتے ہیں جبکہ برطانوی ریٹیل چین ہیرڈز چن ون اور کچھ دیگر پاکستانی کمپنیوں کا فرنیچر اپنے آئو ٹ لیٹس پر فروخت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چنیوٹ لکڑی کے خوبصورت نقش و نگار اور پیتل کے جڑائو کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہاں کا فرنیچر ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کوالٹی میں بہتر ہے، یہاں تیار ہونے والا زیادہ تر فرنیچر سادہ لیکن وزن میں بھاری ہے اور اسے برآمد کرنے کی بجائے مقامی طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ وفد کی قائد سعدیہ بٹ نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،
بین الاقوامی فرنیچر مارکیٹ میں فرنیچر کی برآمد کو سالانہ ایک بلین ڈالر تک لے جانے کے امکانات بہت روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پاکستان میں فرنیچر کی صنعت کاٹیج سے سمال سکیل انڈسٹری کے طور پر اپ گریڈ کرنا ہو گا جس کیلئے کارکنوں کی تربیت، سپلائی اور درآمدات کی اپ گریڈیشن، ووڈ ورک انسٹی ٹیوٹ کا قیام اور بین الاقوامی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپان ایک بڑی اور اہم مارکیٹ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، بین الاقوامی تجارتی میلوں میں زیادہ باقاعدگی سے شرکت کے ساتھ فرنیچر کی برآمدات کو فروغ دینے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔








