فضل شکور خان کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا اسمبلی کے واش کاکس کا دوسرا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کے واش کاکس کا دوسرا اجلاس صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا

پشاور۔ 16 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا اسمبلی کے واش کاکس کا دوسرا اجلاس صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکینِ صوبائی اسمبلی، سیکرٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ، یونیسیف، یو ای ٹی، لوکل گورنمنٹ، آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی، سینیٹیشن، حفظانِ صحت، متعلقہ پالیسیوں اور قانون سازی سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سیکرٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا واش کاکس ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا جبکہ دنیا بھر میں ساتواں پارلیمانی کاکس ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی جانب سے بھی وفاقی سطح پر اس طرز کے اقدام کو اپنانے کا اظہار کیا گیا ہے۔اجلاس میں صوبائی وزیر فضل شکور خان نے ڈرنکنگ واٹر پالیسی، سینیٹیشن پالیسی اور متعلقہ قوانین کی منظوری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ، آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکموں کو باہمی مشاورت سے تمام تحفظات دور کرکے 17 ستمبر 2026 تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔یونیسیف کے واش سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد مسعود اسلم اور دیگر تکنیکی ماہرین نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کی 73 فیصد آبادی کو گھروں میں پینے کا محفوظ پانی دستیاب ہے، جبکہ 10 فیصد آبادی اب بھی کھلے عام رفع حاجت پر مجبور ہے، جو بالخصوص بچوں اور خواتین کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سینیٹیشن اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے مؤثر پالیسی کے ذریعے صوبہ گرین کلائمیٹ فنڈ اور کاربن کریڈٹس سے فنڈنگ حاصل کرسکتا ہے۔واش کاکس کے اراکین اکرام اللہ غازی، میاں شرافت علی، شازیہ تہماس خان اور دیگر اراکینِ اسمبلی نے بھی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے دیہی اور شہری علاقوں میں سہولیات کے فرق کو دور کرنے، مختلف محکموں کے دائرۂ کار کو واضح کرنے اور مؤثر پارلیمانی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز واش کاکس کے اجلاسوں میں ذاتی شرکت یقینی بنائیں گے۔ لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور آبپاشی کے محکمے واش پالیسیوں سے متعلق اپنے تحفظات 17 ستمبر 2026 تک حتمی طور پر حل کرکے رپورٹ پیش کریں گے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں ڈبلیو ایس ایس پی پشاور کی جانب سے سینیٹیشن کے لیے فراہم کردہ جدید ترین سامان اور گاڑیوں کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی، جبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سینیٹیشن پالیسی اور محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا واٹر ایکٹ پر پیش رفت سے بھی آگاہ کرے گا۔