فلم کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے اور مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ کی تجاویز وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جائیں گی ، فلمیں اور آرٹ ملک کامثبت تشخص اجاگرکرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے ، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز کا مشاورتی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے دنیا میں پیش کرنے، معیاری مواد کی تیاری، براڈ کاسٹنگ آلات کی درآمد میں سمیت ہر قسم کا ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لئے تیارہے، فلم کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے اور مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ کی تجاویز وزیراعظم عمران خان …

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے دنیا میں پیش کرنے، معیاری مواد کی تیاری، براڈ کاسٹنگ آلات کی درآمد میں سمیت ہر قسم کا ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لئے تیارہے، فلم کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے اور مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹ کی تجاویز وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جائیں گی ، پرائم منسٹر اکنامک ریچ آئوٹ انیشیٹو فلمی صنعت کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنے کے لئے حائل رکاوٹیں دور کرنے کا فورم ہے ، پاکستانی ڈرامے، فلمیں اور آرٹ ملک کامثبت تشخص اجاگرکرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔وہ جمعرات کو وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام پرائم منسٹر اکنامک ریچ آئوٹ انیشیٹو کے تحت سافٹ پاور کا فروغ اور زرمبادلہ کا حصول کے عنوان سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی، سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکرٹری، پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسو سی ایشن، فلم ایسوسی ایشن ، جنگ میڈیا گروپ ، ایورریزی پیکچر گروپ ، ایگزبیٹر گروپ ، جی ای ایم گروپ ، اے آر وائے میڈیا گروپ کے عہدیداران ، وزارت خارجہ ، تجارت ، ادبی ورثہ ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام شریک تھے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پرائم منسٹر اکنامک ریچ آئوٹ انیشیٹو ، این سی او سی طرز کا ایک فورم ہے جو فلمی صنعت کی ترقی ، بیرون ممالک میں پاکستانی فلمیں ،ڈرامے اور کلچر پہنچانے کے لئے حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے ایک فورم ہے جس میں تمام وزارتوں کو کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے ،ان اہداف کے حصول کے لئے ہم آج تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ کم اور امپورٹ زیادہ ہیں اسی وجہ سے غیر ملکی ڈالر کم ہوتے ہیں اور معیشت بھی دبا ئو میں آتی ہے ، ڈالر کم ہونے کی وجہ سے بیرونی قرض بڑھتے ہیں ، معاشی سکیورٹی متاثر اور ملکی کے مفادات حاصل نہیں کیے جاسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ معاشی سلامتی میں مثبت تبدیلی کے لئے 8وزارتوں کو اپنے ڈرامے اور فلمیں دنیا تک پہچانے کے لئے ایک جگہ اکٹھا کیا ہے تاکہ فوری طور پر حائل رکاوٹیں دور ہوں اور ہم اپنے اہداف حاصل کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسا میکنزم بنا رہے کہ رکاوٹیں فوری دورہوسکیں ،وزیراعظم خود ان امور کو براہ راست دیکھ رہے ہیں اس ضمن میں حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرنے جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ہے کہ فلم انڈسٹری کے لئے مشکلات کو عارضی نہیں ہمیشہ کے لئے حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ڈرامے بھی ٹی وی پر چلیں ہیں جنہوں نے پوری قوم کی توجہ حاصل کر لی ہے ، ہمارے ہاں صلاحتیوں کی کمی نہیں ہے ایسا موزوں ماحول فراہم کرنا ہے جس میں تخلیقی عمل تیزی سے آگے بڑھ سکے۔وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی نے کہاکہ ہمیں اپنے اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی ثقافت کو اجاگر کرنا ہوگا ،ہمارے پاس منجوڈورو، بدھ مت ، سکھ اور ہندئوں کے تاریخی مقامات موجود ہیں ، انھیں دنیا کے سامنے متعارف کرنا ہوگا ،نجی ٹی وی چینلز کی نشریات 70فیصد علاقوں میں نہیں دیکھی جاسکتیں جبکہ پی ٹی وی کی نشریات ملک کے ہر کونے کونے تک پہنچ رہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ڈرامے کیوں بنائیں جہاں رشتے ہی پامال ہوں ، ہمیں ضابطہ اخلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اپنے اقدارکی پاسداری کرنا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی کلچر کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ مثبت تشخص کہیں متاثر نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ آج پیش ہونے والی سفارشات جلد وزیراعظم کو پیش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جلد پاکستانی ڈراموں کی مختلف زبانوں میں ڈبنگ کریں گے ۔ وزارت تجارت کے نمائندہ نے شرکاءکو بتایا کہ وزارت تجارت سٹریٹجی کامرس فریم ورک تشکیل دے رہا ہے ،فلم انڈسٹری اور اس سے منسلک سٹیک ہولڈرز کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے شعبے کے مخصوص حصوں جن کا تعلق وزارت تجارت کے ریلیف یا اقداما ت سے متعلق ہے بارے تحریری آگاہ کریں تا کہ انھیں بھی اس میں شامل کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ 1970 میں عالمی تجارت میں 9فیصد سروسز کا تھا جو کہ آج کے دور میں 20فیصد تک پہنچ گیا ہے ،فلمی صنعت اسی شعبے کا اہم ترین جزو ہے ۔ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری نبیل منیب نے کہا کہ پاکستانی فلم اور ڈراموں کو دنیا کے مختلف ممالک کی سکرینوں تک لیکر جانے کے لئے وزارت خارجہ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے ، ہماری سطح پر فلم میکرز ،پروڈیوسٹرز ، آرٹسٹ کو کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سافٹ پاور اجاگر کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے ملک میں سیاحت ،تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے جبکہ دوسرا فائدہ ہے کہ پاکستان کا کلچر ،فلم اور میڈیا کو ایکسپورٹ کے مواقع ملیں گے اس حوالے سے وزارت خارجہ میں اکنامک ڈپلومیسی ڈویژن قائم کیا گیا ہے، اس شعبے کے لئےوزارت خارجہ کے دروازے کھلے ہیں ۔ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور نے کہا کہ پی ٹی وی اصلاحاتی ایجنڈے کے عمل سے گذر رہی ہے ، پی ٹی وی سافٹ امیج کے فروغ کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے حصول میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں ترکی کا ڈرامہ لانچ کرنے جارہے تھے تو مقامی پروڈیوسرز کا خیال تھا کہ یہ کامیاب نہیں ہوگا لیکن جب ڈرامہ شروع ہوا تو ہر طرف کامیابی کے چرچے ہیں، 70فیصد ایسے لوگ ہیں جو پاکستان سے باہر ہیں اور انہوں نے ڈیجیٹل فورم سے یہ ڈرامہ دیکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کونے کونے میں پی ٹی وی دیکھا جاتا ہے ۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں امجد نے کہا کہ مقامی مارکیٹ اور موادی کی تیاری ، اے ، بی اور سی گریڈ کے پرڈیوسرز کے لئے مواقع ، چاروں صوبوں میں فلم بندی ، سینما گھروں کی طرف عوام کے رجحانات بڑھانے اور علاقائی فلمیں بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے ۔جنگ گروپ کے میر ابراہیم نے کہا کہ 20سال قبل جیو ٹی وی کا آغاز کیا اور آج پہلی دفعہ حکومت اور وزارت اطلاعات کی جانب سے ٹھوس قدم سامنے آیا جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اس سے میڈیا کو مزید وسعت ملے گی ۔ ایورریزی پیکچر کے سی ای او ستاش آنند نے کہا کہ پاکستان کے ڈراموں میں بہت صلاحیت جبکہ پاکستان کی فلمیں بالی وڈ اور ہالی وڈ سے بھی 100گنا ذیادہ بزنس حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کے لئے مواقع اور ریلیف وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، تعمیراتی صنعت کی طرح فلم صنعت کو بھی ریلیف فراہم کیا جائے ۔مانڈی والا انٹرٹینمنٹ کے سی ای او ندیم مانڈوالا نے کہا کہ 2006میں فلم انڈسٹری ختم ہوئے ،2007میں 15سینماﺅں کے ساتھ فلم انڈسٹری کی بحالی کاسفر شروع ہوا جو 75سینماگھروں تک پہنچا ، اسکے بعد پھر سے واپسی کا سفر شروع ہوگیا ہے ،ماضی میں پشتو اور پنجابی فلمیں باہر جاتیں تھی اور گذشتہ 14سالوں سے پنجابی اور پشتو میں فلمیں نہیں بن پائیں ۔ایگزیبٹر ایسوسی ایشن کے رویز لاشاری نے کہا کہ پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے اپنے کلچر اور خوبصورت مقامات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، سیاحت اور کھیلوں کے مقابلوں کی سرگرمیاں سال بھر جاری رہنی چاہیں تاکہ پاکستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کا واپس جانے کا دل ہی نہ کرے ۔پی بی اے کے جنرل سیکرٹری دریپ قریشی نے کہا کہ وہ ہی ڈرامے اور فلمیں باہر جاسکتیں ہیں جو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کے دلوں کو چھو جائیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلم کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے ، ایس آر وی سی ، پی آر بی سمیت ایف بی آر کے ہر قسم کے ٹیکسز سے فلمی صنعت کو چھوٹ دی جائے ۔اے آر وائے گروپ کے جگیت سیجا نے کہا کہ ہم نے بالی وڈ اور ہالی وڈ کی بجائے پاکستانی فلموں کو پرموٹ کرنے کے لئے اپنے چینلز پر یہ فلمیں چلائیں اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اس اچھے مقصد میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے ۔تمام سٹیک ہولڈرز نے مباحثہ میں سیر حاصل گفتگو کے بعد اپنی اپنی تجاویز اور سفارشات وزارت اطلاعات کے سپرد کیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے تمام سٹیک ہولڈرز کو یقینی دہانی کرائی کہ یہ تمام سفارشات اور تجاویز وزیراعظم عمران خان تک پہنچائیں گے۔