چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ تفتیش اور شہادتیں جمع کرنے کے مراحل میں پولیس کی کارکردگی فوجداری انصاف کے معیار پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے، پیشہ ورانہ تفتیش اور معیاری شواہد موثر اور منصفانہ نظام فوجداری انصاف کےلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
فوجداری انصاف کے معیار کا انحصار پیشہ ورانہ تفتیش اور معیاری شواہد پر ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ تفتیش اور شہادتیں جمع کرنے کے مراحل میں پولیس کی کارکردگی فوجداری انصاف کے معیار پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے، پیشہ ورانہ تفتیش اور معیاری شواہد موثر اور منصفانہ نظام فوجداری انصاف کےلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان سے کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی سعد اختر بھروانہ اور ڈین نسٹ لاء سکول محمد نواز واہلہ نے سپریم کورٹ میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران نیشنل پولیس اکیڈمی اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی نے چیف جسٹس کو پولیس افسران کے تربیتی پروگرامز سے آگاہ کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان تعاون سے پولیس افسران کی فوجداری قانون، تفتیشی طریقہ کار، شہادتیں جمع کرنے اور مقدمات کی تیاری سے متعلق استعداد بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے پیشہ ورانہ، قانون سے آگاہ اور حقوق کا احترام کرنے والے پولیس افسران کی تربیت میں نیشنل پولیس اکیڈمی کے کردار کو سراہا۔ملاقات میں ڈین نسٹ لاء سکول نے چیف جسٹس کو ادارے کے قانونی تعلیم کے پروگرامز سے آگاہ کیا جبکہ نسٹ لاء سکول اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے درمیان تعاون کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس افسران اور قانون کے طلبہ انصاف کی فراہمی کے نظام کے اہم شراکت دار ہیں۔ معیاری قانونی تعلیم بار اور نتیجتاً عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کےلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے مستقبل کے باصلاحیت اور پیشہ ور قانونی ماہرین کی تیاری میں نسٹ لاء سکول کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں اداروں کے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ساتھ مجوزہ تعاون کا خیرمقدم کیا۔چیف جسٹس نے استعداد کار، ادارہ جاتی سیکھنے اور نظام انصاف کو مضبوط بنانے کےلئے مشترکہ اقدامات میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔








