فوجیوں کو طویل غیر ملکی قیام سے متعلق فوج کو آگاہ کرنا ہو گا، جرمنی کا نیا قانون نافذ

برلن ۔6اپریل (اے پی پی):جرمنی میں فوجی سروس کے ایک نئےقانون کے تحت زیادہ تر نوجوانوں کا طویل عرصے کے لیے ملک چھوڑنے پر حکام کو مطلع کرنا ضروری ہو گا۔اے ایف پی کے مطابق اس سلسلے میں ایک اخباری رپورٹ پر وسیع پیمانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ 17 سال کے مردوں کا تین ماہ سے زائد عرصے تک غیر ملکی قیام کے لیے …

برلن ۔6اپریل (اے پی پی):جرمنی میں فوجی سروس کے ایک نئےقانون کے تحت زیادہ تر نوجوانوں کا طویل عرصے کے لیے ملک چھوڑنے پر حکام کو مطلع کرنا ضروری ہو گا۔اے ایف پی کے مطابق اس سلسلے میں ایک اخباری رپورٹ پر وسیع پیمانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ 17 سال کے مردوں کا تین ماہ سے زائد عرصے تک غیر ملکی قیام کے لیے جرمن مسلح افواج سے "پیشگی منظوری لینا ضروری ہےاگر متعلقہ عرصے میں بطورِ سپاہی کسی مخصوص سروس کی توقع نہ ہو، تو منظوری دے دی جائے گی۔وزارت کے ایک ترجمان نےبتایا کہ اس ضابطے کا پس منظر اور رہنما اصول یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایک قابلِ اعتماد اور معلوماتی فوجی سروس ریکارڈ یقینی بنایا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ وزارت ایگزٹ پرمٹ کی ضرورت سے استثنیٰ اور درخواستوں کی منظوری کے لیے ایک نظام کا مسودہ تیار کر رہی ہے جس کا مقصد "غیر ضروری بیوروکریسی سے بچنا” ہے۔یہ نیا سروس قانون جنوری میں نافذ العمل ہوا جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نوجوان جرمنوں کو فوجی تربیت کے لیے رضاکارانہ طور پر راغب کرنا ہے۔فوجی سروس قانون کے تحت رضاکارانہ رہے گی۔ جرمنی نے 2011 میں بھرتی معطل کر دی تھی۔لیکن اب تمام 18 سالہ مردوں کے لیے فوجی خدمات میں اپنی دلچسپی سے متعلق ایک سوالنامہ پُر کرنا اور اگر درخواست کی گئی ہو تو طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔جرمنی نے اپنے کل وقتی فوجیوں اور ارکانِ مخصوصہ کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے جو نیٹو کے دفاعی منصوبوں کا حصہ ہے۔