فیصل آباد،چنے کے کاشتکاروں کو سیڈ گریڈنگ کے بعد مو ٹے دانوں کی کاشت کی ہدایت

فیصل آباد۔ 06 ستمبر (اے پی پی):ماہرین زراعت نے چنے کے کاشتکاروں کو بہترین پیداوار کے حصول کے لیے سیڈ گریڈنگ کے بعد مو ٹے دانوں کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پلسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آری فیصل آباد کے ڈائریکٹرچوہدری محمد رفیق نے کہا کہ کاشتکار چنے کی بہترین پیداوار کے حصول کے لیے کیلئے پودوں کی تعداد85سے95ہزار فی ایکڑ رکھیں اور سیڈ گریڈنگ کے بعد موٹے …

فیصل آباد۔ 06 ستمبر (اے پی پی):ماہرین زراعت نے چنے کے کاشتکاروں کو بہترین پیداوار کے حصول کے لیے سیڈ گریڈنگ کے بعد مو ٹے دانوں کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

پلسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آری فیصل آباد کے ڈائریکٹرچوہدری محمد رفیق نے کہا کہ کاشتکار چنے کی بہترین پیداوار کے حصول کے لیے کیلئے پودوں کی تعداد85سے95ہزار فی ایکڑ رکھیں اور سیڈ گریڈنگ کے بعد موٹے دانوں کی کاشت یقینی بنائی جائے کیونکہ موٹے دانوں کی صورت میں کاشت سے صحت مند پودے اگنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی بہتر نشو ونما ہونے سے پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتاہے۔

انہوں نے بتایاکہ چنا موسم ربیع کی ایک انتہائی اہم پھلی دار فصل ہے جو پنجاب میں ساڑھے 24 لاکھ ایکڑسے زائد رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں چنے کی کاشت کے کل رقبے کا 81 فیصد پنجاب پر مشتمل ہے جبکہ پنجاب میں چنے کی کاشت کا92فیصد رقبہ بارانی علاقوں پر محیط ہے جن میں تھل، بھکر،خوشاب، لیہ، میانوالی، جھنگ کے اضلاع شامل ہیں

انہوں نے بتایاکہ عام جسامت کے دانوں والی اقسام کا 30کلو گرام صاف ، خالص، صحت مند، منظور شدہ بیج فی ایکڑ استعمال کیا جائے تاہم کابلی چنے کی موٹے دانوں والی اقسام کی صورت میں بیج کی شرح 35 کلوگرام فی ایکڑ سے کم نہ رکھی جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں مزید رہنمائی کے لیے ماہرین زراعت کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جاسکتاہے۔