نان پروہیبٹری جرائم میں ضمانت اصول اور انکار استثنا ہے، سپریم کورٹ نے بجلی چوری کیس میں قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لی

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی غیر ممنوعہ شق (نان پروہیبٹری کلاز) میں آنے والے جرائم میں ضمانت دینا اصول اور اس سے انکار استثنائی صورتوں میں ہی ممکن ہے، جب استغاثہ فرار، شواہد میں ردوبدل یا جرم کے اعادے جیسے غیر معمولی حالات ثابت کرے

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی غیر ممنوعہ شق (نان پروہیبٹری کلاز) میں آنے والے جرائم میں ضمانت دینا اصول اور اس سے انکار استثنائی صورتوں میں ہی ممکن ہے، جب استغاثہ فرار، شواہد میں ردوبدل یا جرم کے اعادے جیسے غیر معمولی حالات ثابت کرے۔جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بجلی چوری کے مقدمے میں نامزد ملزم جاوید اقبال کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا 17 فروری 2026ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 462-جے کے تحت بجلی چوری کے جرم کی سزا دو سال تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں، لہٰذا یہ جرم ضابطہ فوجداری کی نان پروہیبٹری کلاز کے دائرے میں آتا ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ قانون خود بعض حالات میں صرف جرمانے کی سزا کی گنجائش دیتا ہے، اس لیے ضمانت کے حق میں یہ ایک اہم عنصر ہے۔مقدمے کے مطابق ایف ای ایس سی او کی سرویلنس ٹیم نے گوجرہ میں کارروائی کے دوران درخواست گزار کو مبینہ طور پر مین سپلائی لائن سے براہ راست تار جوڑ کر بجلی استعمال کرتے ہوئے پایا تھا، جس پر اس کے خلاف تھانہ صدر گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقدمہ درج کیا گیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات اور تفتیشی افسر کی رائے کو ضمانت کے مرحلے پر حتمی یا فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریکارڈ اور دلائل کا آزادانہ جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کریں۔عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ درخواست گزار کے ذمہ مبینہ مالی نقصان 28 ہزار 930 روپے بنتا ہے، جبکہ گرفتاری اور حراست سے شخصی آزادی، روزگار اور سماجی ساکھ پر پڑنے والے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق موجودہ حقائق میں حراست کا نقصان اس کے ممکنہ فوائد سے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کوئی ایسی غیر معمولی وجہ ثابت نہیں کر سکا جس کی بنیاد پر ضمانت سے انکار کیا جائے، لہٰذا درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ملزم کو 50 ہزار روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے ایک ضامن کے عوض قبل از گرفتاری ضمانت دینے کا حکم دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ حکم میں دیے گئے مشاہدات عارضی اور ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق کرے گی۔

مزید خبریں