اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت فیصل آباد میں صنعتوں کی بندش سے متعلق حالیہ خبروں پر وزیراعظم کے نوٹس کے تناظر میں چیمبرز آف کامرس اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے نمائندوں کے ساتھ ایک تفصیلی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔وفاقی وزیر نے شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے معاملے پر جامع …
فیصل آباد میں صنعتی بندشوں پر وزیراعظم کے نوٹس کے بعد وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت سٹیک ہولڈرز کے مشاورتی اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت فیصل آباد میں صنعتوں کی بندش سے متعلق حالیہ خبروں پر وزیراعظم کے نوٹس کے تناظر میں چیمبرز آف کامرس اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے نمائندوں کے ساتھ ایک تفصیلی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔وفاقی وزیر نے شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے معاملے پر جامع جائزہ اور پالیسی سفارشات طلب کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورہ فیڈمک (FIEDMC) کے دوران فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف سی سی آئی) کے صدر نے صنعتی بندشوں سے متعلق سنگین خدشات سے آگاہ کیا تھا جو بعد ازاں میڈیا میں رپورٹ ہوئے۔اجلاس میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بشمول ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عرفہ اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری ذوالفقار علی اور ڈائریکٹر جنرل محمود طفیل نے بھی شرکت کی۔ تمام شرکا کو صنعتی شعبے کو درپیش مسائل بیان کرنے کا مکمل موقع دیا گیا۔ایف سی سی آئی کے صدر فاروق یوسف نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں تقریباً 193 صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 55 سے 60 فیصد تک ٹیکس بوجھ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جبکہ بجلی کے مسائل بھی صنعت کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام چیمبرز متفق ہیں اور مشترکہ حل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف سی سی آئی اپنی تجاویز تحریری صورت میں ارسال کرے گی۔ انہوں نے 15 ملین ڈالر برآمدات اور 34 ملین ڈالر درآمدات کے اعدادوشمار کا بھی حوالہ دیا۔اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ کاروبار کی لاگت سب سے بڑا مسئلہ ہے، بجلی، گیس، شرح سود اور ٹیکس خطے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل سے صنعتی سرگرمی بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری مراعات، سفارتی مشنز میں ٹریڈ اتاشیوں کے لیے اہداف اور بی او آئی کے فعال کردار پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ریگولیٹری اصلاحات اور ڈی ریگولیشن پر فعال طور پر کام کر رہا ہے
جن میں آسان کاروبار ایکٹ اور بزنس فیسلیٹیشن سینٹر (بی ایف سی) سنگل ونڈو جیسے اقدامات شامل ہیں۔کراچی چیمبر کے نمائندے زیا الارفین نے ریفنڈز کے مسئلے، توانائی اور ٹیکس کی بلند شرحوں کی نشاندہی کی اور بنگلہ دیش کی ایس ایم ای پالیسی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور وزیراعظم کے اس اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 15 ارب ڈالر برآمدات کی صلاحیت موجود ہے مگر موجودہ برآمدات 3 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔ انہوں نے سیلز ٹیکس کو ایک واحد نظام کے تحت لانے کی تجویز دی۔وفاقی وزیر اور ڈاکٹر عرفہ اقبال نے تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے درخواست کی کہ وہ اپنے مسائل اور تجاویز تحریری طور پر فراہم کریں تاکہ وزیراعظم آفس کو جامع رپورٹ پیش کی جا سکے۔وفاقی وزیر نے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کے تحت 10 سالہ ٹیکس چھوٹ، مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد اور پورٹ قاسم کے قریب 6 ہزار ایکڑ زمین صنعتوں کے لیے فراہم کی جا رہی ہے
جسے 500 تا 1000 ایکڑ کے بلاکس میں برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کی شرط کے ساتھ دیا جائے گا۔اجلاس میں بنگلہ دیش کے پالیسی ماڈل اور ڈاکٹر محمد یونس کے طریقہ کار سے استفادہ اور ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے پر زور دیا گیا۔لاہور چیمبر کے نمائندے کامران سعید نے حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے بلند پالیسی ریٹ، فائنل ٹیکس رجیم، سندھ سیس، نان ٹیرف بیریئرز، فریٹ لاگت اور طویل المدتی ایکسپورٹ فنانسنگ جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب لے جایا جائے گا، وزیراعظم ذاتی طور پر اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور بورڈ آف انویسٹمنٹ صنعتوں کی بھرپور سہولت کاری جاری رکھے گا۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتوں کی سہولت کاری کے لیے پُرعزم ہے اور وزیراعظم کے معاشی بحالی، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے وژن کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔








